اتالیقی کا رواج

تحریر: شہروز کلیم

کچھ عرصہ سےاسکول جانے والے طلبہ و طالبات میں اسکول کے بعد مختلف اتالیقی مراکز میں جانے کا رجحان بہت بڑھ رہا ہے، جہاں وہ مختلف ماہرینِ تعلیم کی زیر نگرانی مختلف مضامین پر عبور حاصل کرنے کی مشق کرتے ہیں۔ اسکول و کالج تو محض، تعلیمی بورڈ کے ساتھ منسلک ہونے اور امتحانات دینے کا ذریعہ رہ گئے ہیں۔ جبکہ اتالیقی مراکز نے ان تعلیمی اداروں کی جگہ لے لی ہےاور یہ ہونہار طلباء کی ذہنی نشو نما میں خاصے کامیاب بھی ہوئے ہیں جو کہ امتحانات میں اعزازات کے ساتھ کامیاب ہوتے ہیں۔ جس طرح طلباء کی کثیر تعداد ٹیوشن کلچر کی طرف راغب ہو رہی ہے، وہ صحت بخش غیر نصابی سرگرمیوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ کئی قسم کی جسمانی اور ذہنی خامیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

ہمارے ہاں یہ کلچر عام ہے اور اگر ٹیوشن نہ لو تو اسکول کے بچے طنز کرتے ہیں۔جو بچے ٹیوشن لیتے ہیں وہ اساتذہ کی نظر میں رہتے ہیں۔ اب یہ ایک امیر انسان کی پہچان بن گیا ہے کہ اس کے پاس گاڑی ہے، بنگلہ، نوکر چاکر اور بینک بیلنس ہے اور کیا اس کے بچے مہنگے کوچنگ سینٹر میں ٹیوشن پڑھتے ہیں یا نہیں۔افسوس ہمارا معاشرہ کہاں جا رہا ہے، کیوں اس قدر تنگ نظری کے بادل ہمارے اوپر منڈلا رہے ہیں۔ ہماری ڈگری کی دوسرے ممالک میں حیثیت نہیں رہی۔ اب والدین پر حیرت ہوتی ہے کہ ایک وقت تھاکہ یہ بچوں کو گھروں میں خود پڑھائی کراتے اورانکی اخلاقی و ذہنی تربیت پر وقت دیتے تھے اور ٹیوشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے شرم محسوس کرتے تھے، مگر اب یہ نمود و نمائش کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ والدین کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا ورنہ بچوں کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔

ہمارے ملک کے ہر کونے و کوچے میں اکادمی اور اتالیقی تدریس کے مراکز موجود ہیں۔ ثانوی تعلیم، او لیول، اے لیول کے طلباء ان اکادمیوں سے استفادہ کرنے کے لئے رجوع کرتے ہیں تاکہ وہ امتحانات میں اچھے نتائج حاصل کرکےاپنامستقبل سنوارسکیں۔اتالیقی تدریس کےمراکز کی تعداد میں روز بروز اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ، کہیں نہ کہیں ہمارے نظامِ تعلیم میں کمی ضرور موجود ہے۔ یقیناً ہمارے ادارے درست طریقے سے کام نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے طلباء اپنی تشنگی دور کرنے کے لِئے ان مراکز کا رخ کرتے ہیں۔ سرکاری اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز کو زیادہ سے زیادہ اس معاملےمیں سوچنا ہو گا ورنہ حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔ ہمارے نصیب میں افسوس کے علاوہ کچھ باقی نہ رہے گا۔ صورت حال اتنی ابتر ہو چکی ہے کہ آج کے طالب علم کے والدین اسکول جا کر بات یہیں سے شروع کرتے ہیں کہ ان کا بچہ ٹیوشن پڑھے گا اسے داخل کر لیا جائے۔

طلباء کو حصولِ علم کے سلسلہ میں صبح سے شام تک اپنے گھر سے دور رہنا پڑھتا ہے۔وہ علی الصبح اپنےاسکول یا کالج کے لئے نکلتے ہیں اور دوپہر اور شام میں اتالیقی درس لے کر دیر رات گھر پہنچتے ہیں۔ ایک طالبعلم جس کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا ہو اس کے پاس آرام کرنے کا بالکل وقت نہیں رہتا۔ اس وجہ سے اسکی صحت اور تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ دوسری طرف والدین کو دگنی قیمت ادا کرنا پڑھتی ہے، تاکہ انکا ہونہار اچھے نمبروں سے کامیاب ہو۔

ٹیوشن سینٹرز میں پڑھنے کی ایک بنیادی وجہ تعلیمی اداروں میں طلباء کی کثیر تعداد بھی ہے، خصوصاً سرکاری اسکولوں میں ایک ایک کمرہ جماعت میں اسی یا نوے کے قریب طلباء ہوتے ہیں، جسکی وجہ سے استاد ہر بچے پر انفرادی توجہ نہیں دے سکتااورطلباء کے ذہنوں میں تصورات واضح نہیں ہو پاتےاوران کی علمی تشنگی برقرار رہتی ہےجس کووہ اس طرح کے ذرائع سے پورا کرنےکی کوشش کرتےہیں۔

اساتذہ کے نکتہ نظر سےاگر دیکھیں توبقول ان کےانہیں اتنا معاوضہ نہیں ملتا کہ وہ اپنی اوراپنےگھرانے کی کفالت احسن طریقےسے کرسکیں۔اس کمی کو پورا کرنے کے لئے وہ ایسے اتالیقی مراکز میں تدریس کا عمل کر کے اضافی آمدن حاصل کرتے ہیں جوکہ ان کے اخراجات میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔ ان مراکز میں تدریس کی اجرت نسبتاً زیادہ ملتی ہے، لہذا وہ اسکول و کالج میں تدریس ناقابل تشفی معیار کی کرتے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ طلباء ٹیوشن کی طرف راغب ہو کر انکی آمدنی میں اضافہ کا باعث بنیں۔ پروفیسر اور اساتذہ کرام جو کہ اس کاروبار کے ساتھ منسلک ہیں، اب وہ ٹھیک ٹھاک کمائی کر رہے ہیں۔ یہ لوگ ان اکادمیوں اور اتالیقی مراکز میں تدریس کرتے ہیں، اور ان مراکز میں ان کے تعلیمی اسباق، کالج اوراسکول سے زیادہ پرُ اثراور بہترہوتےہیں۔طلباء کے پاس ان مراکز میں جانے کےعلاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ کئی لوگوں کی ایک سے زیادہ جگہ پڑھنے کی مالی کی استتاعت بھی نہیں ہوتی۔ بہترے ایسے بھی ہوتے ہیں، جو کہ آمدورفت کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر اساتذہ جانفشانی سے کام کریں تو نوجوانوں کا مستقبل سنوارا جا سکتا ہے۔

Courtesy of Samaa TV