کتب خانوں اورکتب بینی کاشغف رکھنے والوں کی حالت زار

تحریر: شہروز کلیم

کتب خانہ علم و تحقیق کی ترویج کا ایک بہترین ذریعہ مانے جاتے ہیں، لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اب ان کا استعمال جالبین اور دیگر ذرائع ابلاغ کی انتہائی سبک رفتار ترویج کی وجہ سے آہستہ آہستہ موقوف ہوتا جا رہا ہے۔ اس واضح حقیقت کے باوجود کتب خانے آج بھی لوگوں کے اذہان کی علمی پیاس کی تشفی کا ساماں مہیا کر رہے ہیں۔ لائبریریاں کسی بھی ترقی پذیر و ترقی یافتہ معاشرہ کی علم دوست روایات و اقدار کے صحیح تحفظ و ترویج کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔

آج کے جدید دور میں جب کے کتب خانے عصرنو کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے ارتقائی عمل سے گزر رہے ہیں، وہیں پر آج بھی لوگ تحقیقی کام اور ذہنی یکسوئی کے لئے لائبریریوں کا ہی رخ کرتے ہیں، جہاں وہ لوگ اپنی تشفی جاں کی خاطر لاکھوں کتب و مضامین سےباسہولت اندازمیں استفادہ کرتے ہیں۔کتب بینی کا شوق آپ کو تخیل کے ان پنہاں دریچوں سے گزرنے کا موقع دیتا ہے، جس کے تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے انسان تحقیق کی نئی جہتوں سے روشناس ہوتا ہے۔ کتاب آپ کا ہم سفر بن کر آپ کو صدیوں پرانے دور کا سفر کروا دیتی ہے،جس سےانسان کوگئےوقتوں کے تجربات کا اعادہ ہوتا ہے۔ کتب بینی کا شغف انسان کو خود شناسی و خود احتسابی کا موقع فراہم کرتا ہے، جس کو بنیاد بنا کر انسان اپنی ذات کا محاسبہ کر سکتا ہے اور اپنی خامیوں کو دور کرنے کا ذریعہ بناسکتاہے۔

ان تمام باتوں کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن آج کے دور میں کتب خانے اور کتب بینی کا شوق رکھنے والے افراد بہت دگرگوں حالت کا شکار ہیں۔ خصوصاً غیر نصابی کتب کی خریداری کوئی خاص ومحبوب مشغلہ نہیں ہے، کیونکہ زیادہ تر لوگ اس شوق کو پورا کرنے کی حیثیت نہیں رکھتے۔ان کی قوت خرید اس عمل کے درمیاں حائل ہے۔ ناشرین عموماً سنجیدہ اور ترش موضوعات پر مبنی کتب شائع کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں، مزید براں اگر کتاب شائع ہو جائے تو نقول کی تعداد عموماً پانچ سو سے ایک ہزار کے درمیاں رہتی ہےاور ناشرین و کتب فروشوں کے قول کے مطابق اس قلیل تعداد کو بھی فروخت ہونے میں عرصہ دراز درکار ہوتا ہے۔ لائبریری جو کہ پوری دنیا میں کتب کی اولین خریدار مانی جاتی ہیں، اپنے محدود وسائل کی کمی کی وجہ سے نئے عنوانات پر لکھی گئی کتب کو اپنے ذخیرہ میں شامل نہیں کر سکتیں۔

پاکستان میں کتب بینی کے رجحان کے فروغ کی کوششیں ماضی و حال میں کئی مرتبہ کی گئی ہیں اور اُن کےنتائج خاطر خواہ اورحوصلہ افزاء بھی ہیں،لیکن قارئین کی تعداد پھر بھی بہت قلیل ہے۔ ملک میں مختلف تنظیموں اور اداروں کے تحت متعدد کتابی میلے اور نمائشیں منعقد کی جاتی ہیں، جس میں عوامی شمولیت کی وجہ سے مصنفین اور ناشرین کا حوصلہ کافی حد تک بڑھا ہے اور ان کو کافی پزیرائی ملی ہے۔ لیکن اگر ہم یہ کہیں کے ہم، من حیث القوم تیسری دنیا سے تعلق رکھتے ہیں تو یہ بے جا نہ ہو گا۔ تیسری دنیا سے تعلق رکھنے کا مطلب یہ بھی ہے کے ہمارے گھرانوں کے پاس آمدن کے ذرائع محدود ہوتے ہیں، نیز ہمارے ملک کے معاشی نظام اور سالانہ بجٹ میں تعلیم کے فروغ اور ترویج کے لئے ترقی یافتہ ممالک جیسے جرمنی اور انگلستان کے مقابل رقوم کی دستیابی و فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے۔ہم لوگ آج کےدورمیں بھی دووقت کی روٹی اور مکان کے حصول کی دوڑ میں میں مصروف ہیں۔ہم آج بھی لباس اوراس جیسی بنیادی سہولیات کی اپنے خاندان کو فراہمی کی تگ و دو کر رہے ہیں اورآج بھی اپنےدوسب سے بڑے مسائل غربت اور نا خواندگی کو حل کرنے میں ناکام ہیں۔

اگرچہ ہمارے ملک کی نوجوان نسل جو کہ تعلیم یافتہ بھی ہے، کتب بینی کی طرف مائل نہیں ہے، کیونکہ اُسکے گھر اور ارد گرد معاشرے میں جہاں اسکی نشونما ہوئی ہے، وہاں کتاب دوستی اور پڑھنے کا رواج نہیں پایا جاتا، اس کے بجائے وہ فراغت میں اپنا جی سماجی رابطوں کے مواقع جال کو استعمال کر کے بہلاتے ہیں۔ اسکے ارد گرد ناخواندہ اور نیم تعلیم یافتہ افراد کا جم غفیر موجود ہوتا ہے۔ جن کے روزمرہ کے معمولات صرف اور صرف گردش روزگار میں گزرتے ہیں۔ جب تک ہمارے ملک میں کتب بینی کا رجحان نہیں فروغ پاجاتااورہرکس وناقص اپنےذہن میں علمی تشنگی محسوس نہیں کرتااورلوگ کتب خانوں کی طرف اپنی پیاس بجھانے کے لئے مائل نہیں ہوتے اس وقت تک ہمارے ملک میں تعلیمی انقلاب نہیں آسکتا۔

مزیدبراں ہماری حکومتی افسرشاہی انتہائی حد تک بددیانت اور نااہل ہے۔حتٰی کہ جو نمائشی رقومات جو کہ ہماری حکومت عوامی تعلیمی منصوبوں اور کتب خانوں کی ترویج کے لئے مختص کرتی ہے، وہ قلیل رقم بھی یہ افسر شاہی بانٹ کرغائب کردیتی ہے۔ یقیناً ایسے افسران کی تعداد کم ہے، لیکن اسکی وجہ سے شاید ان رقومات اور ان وسائل سے حاصل ہونے والے ثمرات عوام تک نہیں پہونچتے۔ ہمارا بحیثیت شہری یہ حق ہے کہ ہم ایسے لوگوں سے جواب طلبی کریں، تاکہ یہ پتہ چلایا جا سکے کے یہ وسائل کہاں صرف ہوئے۔

Courtesy of Samaa TV