کوئلہ کوہِ نور – حصہ اول

پاکستان کو سستی توانائی کے حصول کے لئے اپنے مقامی وسائل کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ کسی زمانے میں اپنی زیادہ تر توانائی کی ضروریات پن بجلی سے پوری کرتا تھا، مگر اب اس کا زیادہ تر انحصار تیل اور کوئلے سے چلنے والے برقی کارخانوں پر ہے۔ جہاں پر ہمیں اپنی توانائی حاصل کرنے کے ذرائع میں جدت پیدا کرنے کی ضرورت ہے وہیں ہمیں عرصہ قلیل میں زیادہ سے زیادہ اور کم قیمت توانائی حاصل کرنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم لوڈشیڈنگ کے بد ترین وبال سے چھٹکارا پا سکیں۔

توانائی بحران ملکِ خداداد کی معاشی نمو میں میں رکاوٹ کے محرکات میں شامل ہے۔ توانائی کی فراہمی میں تعطل اور عدم دستیابی کا اثر زندگی کے تقریباً تمام شعبوں پڑ رہا ہے، جسکی وجہ سے لوگ بے یقینی اور ذہنی تناوْ کا شکار ہو چکے ہیں، جو کہ ملک میں احتجاج اور نقصِ امن کا باعث بنتا ہے۔ اس تباہ کن بحران کی وجہ سے صنعتی ترقی کا پہیہ سست روی کا شکار ہے۔

کارخانوں کی بندش کی وجہ سے صنعتکار اور عوام احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے ہیں لیکن ان تمام حکومت مخالف سرگرمیوں کے باوجود صورتِ حال زیادہ بہتر نہیں ہو سکی۔ توانائی کے نئے منصوبوں کی شروعات کے باوجود نظام کی بہتری کے لئے خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آتے۔ گرمیوں میں جہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، تو موسمِ سرما میں قدرتی گیس کی بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مہنگے داموں بیرونِ ملک سے تیل اورایل این جی کی خریداری ملکی معیشت پر سب سے بھاری بوجھ ہے، اور زرِمبادلہ میں کمی کا باعث ہے۔

ملک میں توانائی کے وسائل کی کمیابی کا سب سے ذیادہ بُرا اثر ہماری برآمدات پر ہُوا ہے، کیونکہ صنعتیں بیرونِ ملک سے لئے گئے مال کی تیاری کے آرڈر کو بروقت غیر ملکی خریداروں کو پورا نہیں کر سکتیں، جسکی وجہ سے خریداروں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کے وہ دیگر ملکوں کے اداروں سے رجوع کریں جو کم قیمت اور بر وقت مال کی تیاری و ترسیل کر سکیں۔ اسکا اثر صرف برآمدات تک ہی محدود نہیں، بلکہ مقامی کاروباری ادارے اور افراد اپنے کاروبار اور کارخانے قریبی ممالک مثلاً چین، بنگلادیش، ویتنام وغیرہ میں منتقل کر رہے ہیں، جہاں خام مال اور توانائی کی فراہمی سہل، ارزاں اور وافر ہے۔

ویکیپیڈیا کے مطابق پاکستان میں ایک سو اسی ارب ٹَن سے ذائد کوئلے کے ذخائر موجود ہیں، جن کو ابھی تک صحیح طریقے سے استعمال کرنے کا انتظام نہیں ہے۔ تھر کے کوئلے کی کان کُنی ابھی اپنے شروعاتی مراحل میں ہے۔ حالانکہ کئی منصوبوں کی منظوری ہو چکی اور کئی اپنی تکمیل کے مراحل سے گزر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کے نتائج نہ ہونے کے برابر ہیں۔

Courtesy of Samaa TV