کوئلہ کوہِ نور – حصہ دوئم

اگر بین القوامی طور پر تیل کی قیمتوں میں ممکنہ و  ہوشرباء اضافہ ہو جائے اور پاکستان کی تونائی کی ضروریات اس رفتار سے بڑھتی رہیں تو پاکستان کئی طرح کے مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس صورت حال میں کوئلے کو بطور بنیادی ایندھن استعمال کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ اس سلسلے میں ہمیں اس امر کی ضرورت ہے کے ہم کوئلے کے روایتی طریقہ استعمال میں جدت پیدا کر کے اس کے دیگر مصارف کی ترویج  کی طرف جائیں۔

جدید سائنسی تحقیق کے مطابق کوئلے کو ڈیزل اور گیس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔  اگر نئی ٹیکنالوجی کو اپنا کر ہم اپنے ہی ملک میں ملکی وسائل کو استعمال کر کے پیٹرولیئم مصنوعات تیار کر لیں تو ہمارے معیشت میں ترقی ہو گی اور ہمیں کثیر زرِمبادلہ درآمدی بل کی ادائیگی میں صرف نہیں کرنا پڑے گا۔ اس طریقہ کار میں قریباً ایک صدی پرانے فشر – ٹروپش   تکنیک میں بہتری پیدا کر کے ایندھن بنانے کا موثر کام لیا جا رہا ہے۔

درج بالا طریق کار کو استعمال کر کے جرمنی نے جنگ عظیم دوم میں اپنی ایندھن کی بیشتر ضروریات کو پورا کیا تھا، اور آج  کی تاریخ میں اس کی جدید تکنیک کا استعمال جنوبی افریقا میں کیا جا رہا ہے، جہاں “ساسول” نامی کمپنی نے اس میں جدت پیدا کر کےڈیزل، جیٹ فیول اور دیگر مصنوعات  کی تیاری کا کام تجارتی بنیادوں پر  کر  رہی ہے۔ ساسول کوئلے کو مائع شکل میں ڈھالنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن چکی ہے۔

اس کے تجربات سے بھارت اور چین جیسے ممالک فائدہ حاصل کرنے کے لئے اپنی اپنی سرزمیں پر اس طرز کے کارخانے قائم کرنے پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔  اس طریقہ کار سے تیار شدہ ایندھن کافی حد تک ماحول دوست بھی ہے، کیونکہ اس مصنوعی ایندھن میں نقصان دہ  “ایرومیٹک مالیکیولز” کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

لیکن پاکستان کے لئے سب سے زیادہ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئلے کے دریافت شدہ وسیع ذخائر موجود ہیں، اور اگر ہم اس تکنیک میں جدت لا کر کم قیمت میں ایندھن تیار کر لیں تو ہمیں بیرونِ ملک سے تیل کے حصول میں کمی لا سکتے ہیں۔ خبروں کے مطابق، پاکستان کے تیل کے درآمدی بل میں، مالی سال ۲۰۱۷- ۱۸ کے پہلے دو ماہ میں۳۵ فیصد تک اضافہ ہوا، جسکی مالیت تقریباً دو ارب ڈالر بنتی ہے۔ تیل کی درآمد ملک کی کل درآمدات کا ۲۰ فیصد کے قریب بنتی ہے، جو کے ہمارے لئے ایک لمحہِ فکریہ ہے، اس کی وجہ سے ہماری بین الاقوامی ادائگیاں عدم توازن کا شکار رہتی ہیں۔

اب توانائی کے شعبہ کے ماہرین  اس بات کے قائل ہوتے نظر آتے ہیں، کہ جب  جب زیرِزمین معدنی تیل کے چشمے خشک ہونا شروع ہو رہے ہیں،  خصوصاً پاکستان میں جہاں معدنی تیل کے ذخائر انتہائی کم ہیں، کوئلہ مستقبل میں ذرائع آمدورفت اور صنعتوں کو ایندھن فراہمی کا بنیادی اور آسان ذریعہ بن کر رہ جائے گا دریں اثناء سائنسدان شمسی و دیگر ذرائع میں بہتری نہیں لے آتے۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی کو اپنا کر خود انحصاری کی طرف بڑھیں، تاکہ ملکی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔