منشی کو پکڑو

تحریر: شہروز کلیم

پاکستان میں منشی کو ہمیشہ ایک ایسے سماجی کردار کے طور پر پیش کیا جاتا آ رہا ہے، جو کہ اپنے زیر سایہ ظلم اور زیادتی کو فروغ دیتا آیا، جب کہ درحقیقت یہ تاثر مجموعی طور پر غلط ہے۔ افسوس کہ، آج تک کسی نے بھی اس طبقے کے مسائل کی طرف سنجیدگی سے غور نہ کیا۔ سرکاری ملازمین کو تو کافی سہولیات میسر ہیں، مگر نجی شعبہ میں کام کرنے والے اس محنت کش کو کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ کلرک کہنے کو تو “وائٹ کالر جاب” کرتے ہیں، لیکن ان کو ملنے والا معاوضہ اور نفسیاتی دباؤ شاید محنت کش طبقے میں سب سے زیادہ ہو۔ ان لوگوں کو دو وقت کی روزی روٹی حاصل کرنے کے لئے “پندرہ، سولہہ گھنٹے کی نشست” میں کام کرنا پڑتا ہے۔

اگر نجی شعبہ کی طرف غور کریں تو سب سے پہلے یہ معلوم ہوتا ہے، کہ یہاں پر کلرک طبقہ منظم نہیں ہے، اور نہ ہی اُس کو اپنے حقوق کا ادراک ہے۔ یہ کلرک سیٹھ کی “ہدایات” اور “اصولوں” کو ہی سب کچھ مان کر کام چلاتے ہیں، اور ان ہی ہدایات اور اصولوں پر، جو کہ کام کرنے کے طریقے سے زیادہ “روایات” پر مبنی ہوتے ہیں، اپنے ساتھ اور نیچے کام کرنے والے ساتھیوں سے کام لیتے ہیں۔ اور اگر کسی کوتاہی یا ناگزیر وجہ کی بنیاد پر کوئی حادثہ یا نقصان ہو جائے تو اس تمام نقصان کا خمیازہ اُس بیچارے منشی کو ہی بھگتنا پڑ تا ہے۔

منشی اپنے حقوق اور “مالکانہ” ظلم کے خلاف اگر آواز اٹھائے تو سب سے پہلے مالکان کہتے ہیں “بھائی تم اپنے مسئلے اپنے پاس ہی رکھو، اور خاموش رہو ہم اس سلسلہ میں کچھ نہیں کر سکتے، اور یہ بات باہر نہیں جانی چاہیئے ورنہ دوسرے نوکروں نے بھی {اپنے حق کے لئے} شور مچانا شروع کر دینا ہے “اور اگر ملازم غلطی سے اصرار کرے تو مالکان کہتے ہیں” بھائی کام کرنے کے لئے کوئی اور جگہ ڈھونڈ رکھو، ہم آپ کو ملازم نہیں رکھ سکتے “اور بیچارہ منشی نوکری کھو جانے کے خوف کی وجہ سے یہ جبر برداشت کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی دوسرے ملازم کی درخواست مالک کی خدمت میں پیش کرے تو مالک کہتا ہے “اس کو جھنڈی کراؤ” اور اگر منشی مالک کی ان “ہدایات” پر عمل درآمد کروائے، تو دنیا کے سامنے وہ سب سے بڑا “مجرم” اور “خبیث” قرار پاتا ہے۔

جب بھی کسی کارخانے یا کاروباری ادارے میں، اس ادارے کی “کار گزاریوں” کو افشاء کرنے کے سلسلہ میں سرکاری ادارے اور قانون کے نفاذ کے ادارے چھاپہ مار کاروائی کریں تو سب سے پہلے جانچ پڑتال کے دوران پتا چلتا ہے کہ، اس کارخانے کے مالکان اپنے آپ کو بچانے کے لئے موقع واردات سے غائب ہیں، اور افسران حُکم دیتے ہیں “منشی کو پکڑو”۔ منشی اگر موقع پر صفائی پیش کرنے کی کوشش کرے تو اُس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور مقدمات درج کئے جاتے ہیں۔ مسائل کے محرکات اور وجوہات کے منبع کو تلاش کرنے کی بجائے، بے کس کلرک کی شامت اعمال آجاتی ہے، اور کارخانے کے مالکان بچ جاتے ہیں۔

مالک کی کار گزاریوں کا خمیازہ ہمیشہ سے ملازمین کو ہی بھگتنا پڑتا ہے، اور جب مالکان کا مطلب پورا ہو جاتا ہے تو ملازمین کو برطرف کر دیا جاتا ہے۔ ملازمین کی سماجی بہبود اور تحفظ کا کوئی مربوط نظام ابھی تک عمل پزیر نہیں ہے۔ سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی کی سہولت کا فائدہ بڑے کاروباری اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو تو کسی حد تک شاید ملتا ہو، لیکن چھوٹے کاروبار میں جہاں وہ ادارہ محض ایک دوکان سے زیادہ نہیں ہے، تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔

ہونا تو یہ چاہیئے کہ سرکاری ادارے اور سماجی بہبود کے ادارے اس طبقہ میں شعور کی بیداری کے لئے مہم چلائیں اور بالعموم محنت کشوں کو آگہی دے، تاکہ انکو کم از کم اپنے حقوق کا علم تو ہو، مزید براں اگر ایسی قانون سازی کی جائے جس کی وجہ سے اس طبقہ کو اپنی نوکری کا تحفظ حاصل ہوسکے، اور اگر وہ اپنے خلاف ہونے والی زیادتی کے خلاف آواز اٹھائیں تو اُن کو بغیر کسی دباؤ اور معاشی مسائل کا سامنہ کئے بغیر ان کو انصاف حاصل ہو سکے۔

اس سے بھی زیادہ بہتر ہو اگر ہم سب مل کر بڑے اداروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے اداروں کو بھی “روایتی اصولوں” کے مروجہ نظام سے ہٹا کر “معیاری اصولوں” کی طرف لے جائیں، تاکہ ان چھوٹے اداروں کے مالکان کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر اپنے اردگرد خصوصاً اپنے ملازمین کہ بہبود میں حصہ ڈالیں۔ حکومت کو چاہیئے کے ایسا کرنے والے کاروباری افراد خصوصاً چھوٹے کاروبار کرنے والوں کو غیر جانب دار آڈٹ کے بعد ان خدمات کے حقیقی ثمرات کے ملازمین کو ملنے کی صورت میں، سہولیات کی شکل میں مالی فوائد سے مستفید کرے۔

Courtesy of Samaa TV