لازمی مضامین کیا لازمی ہیں؟

تحریر: شہروز کلیم

ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں، مگر ہمارا نظامِ تعلیم ابھی بھی ارتقاء کے ابتدائی دور سے گزررہا ہے۔ ہمارے ہاں طریقہ تدریس میں ممارست کےمقابل نظریہ کی تفہیم پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ آج بھی ہم قرونِ اولیٰ کے طریقہ تدریس پر کار بند ہیں۔ اوپر سے سونے پہ سہاگہ، طلباء کو “لازمی مضامین” کا جبراً مطالعہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ انسان اپنی مادری زبان میں بتائی گئی باتوں کو زیادہ آسانی سے سمجھتا ہے، کیونکہ وہ لسانی بندشوں کے وبال سے آزاد ہوتا ہے، اور اس میں اپنائیت کے ساتھ ساتھ قربت کا تاثر بھی بہم موجود ہوتا ہے، جس کے نتیجہ میں انفرادی فہم کا معیار بہت بہتر ہوجاتا ہے۔

اگر مہذب اقوامِ عالم کے نظامِ تعلیم کو دیکھیں تو آپ پر یہ حقیقت افشاء ہوگی کہ ان مملاک کے تعلیمی اداروں میں عملِ تدریس کے لئےوہاں کی مقامی اور مقبول علاقائی و قومی زبان میں تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ وہاں اپنی قومی شناخت کو ہر حال میں مقدم رکھا جاتا ہے۔ جب کہ غیر ملکی طلباء کی عموماً “بین الاقوامی پروگرام” کے تحت “محدود پیمانہ” پر چند ایک مخصوص اداروں تک ہی رسائی ممکن ہوتی ہے۔ جبکہ عام طور پر اکثریتی اداروں میں داخلہ لینے کے لئے وہاں کی مقامی زبان میں مہارت ہونا لازمی ہوتا ہے۔

اگر ہم اپنے نصابِ تعلیم پر غورکریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ انگریزی کو بطور لازمی مضمون کے ہمارے نظام تعلیم کا بنیادی حصہ بنایا گیا۔ کسی زمانے میں عربی کو بھی اسی طرح جبراً شامل کرنے کی کوشش کی گئی مگر مکمل طور پر کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ بدقسمتی سے ہم آزادی کے قریباً ستر سال گزر جانے کے باوجود کالونیائی نظام کی باقیات کو دور نہ کر سکے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ قومی زبان کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں کو فوقیت دیتے ہوئے ان کو بنیادی ذریعہ تعلیم بنایا جاتا، مگر غیروں کی بود وباش کو علامت ِفخر سمجھتے ہوئے اپنے گلے کا طوق بنائے رکھا۔

طلباء نہ چاہتے ہوئے بھی، بغیر کسی میلان اور قدرتی رجحان کے ان مضامین کے مطالعہ پر مجبور ہیں، کیونکہ اگر ان لازمی مضامین کا مطالعہ نہ کریں تو وہ امتحان میں شرکت نہیں کر سکتے، اور ان کونہ ہی تعلیمی اسناد مل سکتی ہیں۔ ان لازمی مضامین کو نصاب کا حصہ بنانے کی منطق ناقابلِ فہم ہے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا ہے تو اس کو مطالعہ پاکستان، اسلامیات، انگریزی ادب، اردو کو پڑھنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ ان مضامین میں پڑھائے جانے والے تصورات وہ طالبعلم اپنے سکول کے زمانے میں پڑھ چکا ہوتا ہے، اور بار بار ان ہی چیزوں کو بلا ضرورت دہرایا جاتا رہتا ہے، جسکی وجہ سے طالبعلم اپنے بنیادی انجینئرنگ کے مضامین کا گہرائی سے مطالعہ نہیں کر پاتا۔ جس کے نتیجے میں اس کی فراست و مہارت محدود پیمانے پر رہتی ہے، اور وہ اپنی عملی زندگی میں معیاری خدمات سر انجام نہیں دے پاتا۔

میں یہ نہیں کہتا کے ان مضامین کی تعلیم ختم کر دینی چاہیے بلکہ اگران لازمی مضامین کی تدریس کے بجائے ، ان طلباء کو ممارست کا تجربہ حاصل کرنے کا موقع دیا جائے تو یہ ہی طلباء فارغ التحصیل ہونے کے فوراً بعد معاشرے کا ایک فعال فرد بن کر اُبھریں۔ ہمیں اپنی تعلیمی پالیسی اور نصاب کا از سرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے نصابِ تعلیم سے اس طرح کی غیر ضروری اختراعات کو محدود کرنے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ ہمارا نصاب بین القوامی معیار کے مطابق ہو اور زیادہ سے زیادہ غیر ملکی طلباء بھی ہمارے ملک میں آکر آزادانہ تعلیم حاصل کر سکیں۔ مزید براں طلباء کو حصول تعلیم کے لئے اپنے مضامین کا انتخاب کرنے کا مکمل اختیار دینے کی ضرورت ہے۔

Originally posted in Samaa TV