نظریہ ضرورت یا نظریہ پاکستان

ضیاء دور میں ہی وطن عزیز میں دہشتگردی کے سلسلے کا آغاز ہوا، ہتھوڑا گروپ سے لے کر کلاشنکوف کلچر اور ملک کے طول و عرض میں نشہ کی لعنت کی ترسیل تک ، ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے اکثر مسائل نے اسی دور میں جنم لیا ۔ مسلح گروپوں کی تخلیق کی گئی اور انہیں پھلنے پھولنے کیلئے مسلکی چھتریوں کے سائے فراہم کر کے ان سے دین و عقیدہ کا نام پر سیاسی مقاصد کے حصول کا کام لیا گیا، سیاستدانوں اور حکمرانوں کی سرپرستی نے ان گروپوں کو معاشرے میں قوت و اختیار فراہم کیاجبکہ جوابا ان گروپوں نے اپنے سرپرستوں کے جائز و ناجائز امور سرانجام دیکر انہیں مذید طاقتور بنایا ۔

یہ گروپ سیاسی و سرکاری نگہداشت میں پرورش پاتے رہے یہاں تک کہ انہیں یہ بات سمجھ آگئی کہ عسکری قوت کے حصول کے علاوہ اپنا ایک سیاسی چہرہ بھی متعارف کروایا جائے جسکے ذریعے ایوانان اقتدار تک رسائی حاصل کی جائے اور ملک میں قانون سازی کے عمل پر اثر انداز ہوکر اپنے مذموم مقاصد کا حصول زیادہ موثر اندز میں یقینی بنایا جائے، لہٰذا قومی خدمت کے بجائے فرقہ وارانہ بنیادوں پر انتخابی سیاست میں حصہ لینے والی شدت پسند پارٹیاں منظر عام پر آئیں جنہوں نے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے بیرونی امداد کے بل بوتے پر معا شرے میں عدم برداشت اورتشدد کے کلچر کو فروغ دیا اور مختلف مکاتب کے مابین معمولی نظریاتی اختلافات کو بہانہ بنا کردہشتگردی و قتل و غارت گری کا بازار گرم کر کے، قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا اسلام و پاکستان دشمن ایجنڈا آگے بڑھایا۔

وطن عزیز پاکستان جسے تمام مکاتب فکر کی یکساں میراث قرار دیا گیا تھا،جسے اسلام کی عظیم تعلیمات و روایات کی روشنی میں عدل و انصاف اور مساوات کا عملی نمونہ بننا تھا،اور جو اپنے تمام باسیوں کے لیے مساوی حقوق کا ضامن تھا، کی باگ ڈور ایسے عناصر کے ہاتھ آگئی جو روز اول سے قیام پاکستان کے حامی ہی نے تھے۔ دین و وطن کے دشمنوں کی جانب سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت دہشتگردی کا رخ ایسے پروگراموں، مقامات اور آثار کی جانب پھیردیا گیا جن سے قومی سطح پر دین اسلام اور مشاہیر اسلام سے محبت و مودت اور انکی صبر و برداشت، عفو و درگزر، مساوات اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کی آفاقی تعلیمات کا ابلاغ ہوتا ہو، لہٰذا ملک بھر میں مساجد ، امام بارگاہوں، میلاد اور عزاداری کے پروگراموں یہاں تک کہ اولیائے کرام کے مزارات تک کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا۔

نظریہ پاکستان سے انحراف کے باعث اس مملکت خداداد کے باسی ان ثمرات سے بھی محروم رہے جنکا خواب بانیِ پاکستان نے دیکھا تھا۔لہذٰا اگر آج ہمیں پاکستان کو صحیح معنو ں میں قائد ا عظم ؒ کا پاکستان بنانا ہے تو ہمیں نظریہ پاکستان کا چناؤ کر نا ہوگا جووطن عزیز پاکستان میں امن و آشتی اور ترقی و خوشحالی کے قیام کا واحد ذریعہ ہے۔