سعودی جوہری عزائم، خواب یا سراب

گذشتہ دنوں سعودی حکومت نے اپنی قومی جوہری پالیسی کا اعلان کیا۔ سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس کا اعلان  سعودی توانائی کے وزیر اور شاہ عبداللہ شہر جوہری و قابل تجدید توانائی کے چیئرمین جناب خالد الفالح نے کیا۔ خبروں کے مطابق سعودی حکومت نے پالیسی پر پیر کے روز  نظر ثانی کے لئے نشست کی اور پر امن مقاصد کے لئے مقامی و  بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کو سامنے رکھتے ہوئے جوہری توانائی کے حصول کے سلسلہ میں سفارشات و رہنمائی کا طریقہ کار وضع کیا۔

حکومت نے اس عمل کےتمام مرحلہ جات میں شفافیت اور بین الاقوامی معیارات کو ملحوظ خاطر رکھنے کے سلسلہ میں ہدایات جاری کیں، خصوصاً جوہری فضلہ کو تلف کرنے اور اپنی قومی صنعتی استعدادکار میں اضافہ اور خود انحصاری کی فوقیت اور اہمیت پر زور دیا۔  سعودی حکومت نے اس سلسلہ میں نگرانی اور حفاظت کے کام کے لئے ایک علیحدٰہ محکمہ قائم کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے اس اعلان سے پہلے بین القوامی حلقوں مین افواہیں گردش کرتی رہی تھیں کہ، سعودی عرب نے امریکہ سے اس سلسلہ میں منظوری لینے کے لئے کوششیں تیز تر کر رکھی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے فروری میں یہ خبر دی کہ سعودی شاہ خلیج فارس کے کنارے جوہری توانائی سے چلنے والے بجلی گھروں کی تعمیر کے  سلسلہ میں اربوں ڈالر مالیت کے ٹھیکوں کا اعلان کرنے والے ہیں۔  مشہور جریدے وال سٹریٹ جرنل کی  ایک خبر کے مطابق مبینہ طور پر ٹرمپ انتظامیہ ریاض کے ساتھ جوہری تعامل گھروں کی فروخت کے سلسلہ میں رابطے میں ہے اور  بین الاقومی جوہری معاہدہ ان پی ٹی  اور دیگر  بین الاقوامی پابندیاں اس سلسلہ میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہیں۔

حالانکہ سعودی حکومت کے اعلان کے مطابق اُن کا ارادہ سویلین مقاصد کے لئے ہے اور وہ بھی صرف ان تعامل گھروں سے صرف بجلی بنانے کا کام لینا چاہتے ہیں، نہ کے کوئی جوہری اسلحہ سازی کرنا، مگر بین القوامی برادری اس معاملے میں شکوک و شبہات کا شکار نظر آتی ہے۔  چند ایک مبصرین دو رائے کا شکار نظر آتے ہیں، یہاں تک کے نیویارک ٹائم کے اداریے کے شائع کردہ ایک مضمون میں انتباہ کیا گیا ہےکہ انہیں اشارات ملتے محسوس ہو رہے ہیں کے سعودی ، ایران کی طرف سے ہونے والی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے نویاتی اسلحہ کی تیاری کا مبینہ منصوبہ  رکھتے ہیں۔

یقیناً  سعودی شاہی حلقوں کے ذہن میں اپنے حریف ایران کو قابو میں رکھنے کے لئے اس انتخاب کو اختیار  کرنے کا خیال آیا ہو گا؛ کیونکہ سعودی عرب اپنے آپ کو علاقائی طور پر ایک رہنما ملک کے طور پر شناخت کرتا نظر آتا ہے، خصوصاً عربوں کے معاملہ میں اپنا پدرانہ کردار ادا کرتا رہا  اور اپنے فیصلے مسلط کرتا رہا ہے۔  ہم دہائیوں سے سنتے آئے کے پاکستان کے پاس جوہری توانائی اور ہتھیار ہیں، ایران جوہری توانائی پیدا کر رہا ہے، تو کیوں نہ ہم بھی یہ توانائی پیدا کریں؟ مگر حقیقت میں ابھی تک وہ کچھ بھی نہ کر پائے؛ اور اگر یہ صورت حال رہی تو وہ شاید مزید کچھ عرصہ ایسے ہی خیالی پلاو پکاتےر ہیں۔

سب سے مزیدار بات یہ ہے کے امریکا خود بھی نہیں چاہتا کے کوئی بھی مسلم ملک، خصوصاً عرب اس سلسلہ میں پیشرفت کر سکیں، یقیناً اس کے پیچھے اس کی دفاعی سوچ بھی کار فرما ہے۔ وہ مشرق وسطٰی میں میں کوئی  جوہری خطرہ نہیں پالنا چاہتا۔  مجھے اس کا انجام متحدہ عرب امارات ماڈل جیسا ہوتا نظر آرہا ہے، جہاں فرانس سے درآمد شدہ جوہری تعامل گھر چل ہے ہیں، جن سے سوائے ایک خاص انداز کی یورینیم کی افزودگی کے مزید کچھ نہیں ہو سکتا ، جو کےیقیناً  کسی بھی ہتھیار کی تیاری میں استعمال نہیں ہو سکتی۔

Courtesy of Samaa TV