کالا سونا: کوئلہ ہماری توجہ چاہتا ہے

جدید سائنسی تحقیق کے مطابق کوئلے کو ڈیزل اور گیس میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اگر نئی ٹیکنالوجی کو اپنا کر ہم اپنے ملکی وسائل استعمال کرکے پیٹرولیم مصنوعات تیار کرلیں تو ہماری معیشت میں ترقی ہوگی اور ہمیں کثیر زرِمبادلہ کی ادائیگی درآمدی بل کی مد میں نہیں کرنا پڑے گی۔ اس طریقہ کار میں تقریباً ایک صدی پرانے ’’فشر ٹروپش‘‘ تکنیک میں بہتری پیدا کرکے ایندھن بنانے کا مؤثر کام لیا جارہا ہے۔

درج بالا طریق کار کو استعمال کرکے جرمنی نے جنگ عظیم دوم میں اپنی ایندھن کی بیشتر ضروریات پوری کی تھیں، اور آج کی تاریخ میں اس جدید تکنیک کا استعمال جنوبی افریقہ میں کیا جارہا ہے جہاں ’’ساسول‘‘ نامی کمپنی اس میں جدت پیدا کرکےڈیزل، جیٹ فیول اور دیگر مصنوعات کی تیاری کا کام تجارتی بنیادوں پر کررہی ہے۔ ساسول کوئلے کو مائع شکل میں ڈھالنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن چکی ہے۔

فشر ٹروپش طریق کار میں کیمیائی عمل کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں مختلف النوع ہائیڈروکاربن پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً فارمولا CnH2n+2 وغیرہ۔ زیادہ مفید تعامل میں الکےنز (وہ نامیاتی مرکبات جن میں کاربن ایٹموں کے درمیان صرف سنگل بونڈ یعنی ایک بونڈ پایا جائے) پیدا ہوتے ہیں، جن میں زیادہ تر تعداد ایسے زنجیر نما مالیکیولز کی ہوتی ہے جن کی ہیئت، ڈیزل کے مالیکیولز سے مشابہ ہوتی ہے۔

عمومی طور پر ایسے کارخانے، سب سے پہلے صاف شدہ کوئلے کو گیس میں تبدیل کرتے ہیں۔ بعد میں اس گیس (SynGas) کو فشر ٹروپش طریقہ کار کے مطابق مائع شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار پولیمرائزیشن سے مشابہ ہے، جس میں بہت سارے مونومر مالیکیولز کو کیمیائی عمل سے گزار کر یکجا کرکے بڑے مالیکیول بنائے جاتے ہیں، جس سے ان کی ہیئت بدل جاتی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں مختلف اقسام کے زنجیر نما اور مختلف النوع مالیکیول وجود میں آتے ہیں جیسے کہ میتھین، ایتھین، گیسولین، ڈیزل وغیرہ۔ ان انواع و اقسام کے مختلف مالیکیولز کی کثیر تقسیم کی وجہ متغیر درجہ حرارت اور دیگر ماحولیاتی عناصر ہیں۔ اس عمل کے آخر میں ان مالیکیولز کو الگ الگ کیا جاتا ہے، اور خالص کرنے کے بعد استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے۔

براہ راست کوئلے کی مائع ایندھن میں تبدیلی کےلیے کوئلے کو تیل اور ہائیڈروجن کے ساتھ ایک خاص دباؤ اور درجہ حرارت پر ملایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل سے مشابہ مصنوعی محلول حاصل ہوتا ہے، جسے روایتی تیل کی ریفائنری میں عمل پذیر کرکے مختلف پیڑولیم مصنوعات حاصل کی جاتی ہیں۔

اس کے تجربات سے بھارت اور چین جیسے ممالک فائدہ حاصل کرنے کےلیے اپنی اپنی سرزمین پر اس طرز کے کارخانے قائم کرنے پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔ اس طریقہ کار سے تیار شدہ ایندھن بڑی حد تک ماحول دوست بھی ہے، کیونکہ اس مصنوعی ایندھن میں نقصان دہ ’’ایرومیٹک مالیکیولز‘‘ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

لیکن پاکستان کےلیے سب سے زیادہ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئلے کے دریافت شدہ وسیع ذخائر موجود ہیں، اور اگر ہم اس تکنیک میں جدت لاکر کم قیمت میں ایندھن تیار کرلیں تو بیرونِ ملک سے تیل کے حصول میں کمی لاسکتے ہیں۔ خبروں کے مطابق، پاکستان کے تیل کے درآمدی بل میں، مالی سال 2017-18 کے پہلے دو ماہ میں 35 فیصد تک اضافہ ہوا، جس کی مالیت تقریباً دو ارب ڈالر بنتی ہے۔ تیل کی درآمد ملک کی کل درآمدات کا تقریباً 20 فیصد بنتی ہے، جو ہمارے لیے ایک لمحہِ فکر ہے۔ اس کی وجہ سے ہماری بین الاقوامی ادائیگیاں عدم توازن کا شکار رہتی ہیں۔

Courtesy of Express