عدم استحکام و تصادم، بھوک اور افلاس کی تقویت کا سبب

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی شائع کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق تصادم اور بد امنی کی صورت حال کی وجہ سے بین الاقوامی طور پر بھوک اور افلاس کے شکار لوگوں کی تعداد میں ہوشرُبا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔  یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے خوراک و زراعت اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے اشتراک سے مارچ میں شائع ہوئی ہے۔

اعداد و شمار کی محدود دستیابی کے باعث، اس رپورٹ میں پاکستان کے بارے میں کوئی واضح تصویر پیش نہ کی جاسکی، لیکن پھر بھی ماہرین یہاں کی صورت حال کے سلسلے میں تشویش کا شکار ہیں۔ پاکستان  کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جہاں کی آبادی کا لگ بھگ 20 فیصد خوراک کے بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ دوسرے معنوں میں غذائی قلت کا شکار افراد کی تعداد قریباً دو کروڑ ستر لاکھ  بنتی ہے۔  اس کے علاوہ دنیا کے تقریباً 51 ممالک کے 13 کروڑ آبادی بحیثیت مجموعی  غذائی قلت کا شکار ہے۔

اس سلسلہ میں اکٹھے کئے گئے اعدادوشمار سے یہ بات حیرت انگیز طور پر معلوم ہوئی کے تشدد اور تصادم کی صورت حال غذائی بحران کے بنیادی محرکات میں شامل ہے اور اس کا اثر سات کروڑ چالیس لاکھ لوگوں پر براہ راست پڑ رہا ہے، جو کے ایک مکمل ملک کی آبادی کے برابر ہے۔

اس رپورٹ میں پچھلے جائزے میں زیرغور ممالک کے اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ، میانمار اور یمن میں کشیدہ صورت حال سے متاثرہ لوگوں کے کوائف کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ مزید براں اس رپورٹ میں کانگو اور جنوبی سوڈان  کے حقائق کو خصوصی طور پر زیر بحث لایا گیا، جہاں انسانیت سوز سانحات انسانی تاریخ کے ناقابل فراموش باب بن کر شامل ہوئے۔

دہشت گردی اور بدامنی کی وجہ سے لوگ بے گھر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کو صحیح اور معیاری غذا نہیں مل پاتی، جس کی وجہ سے لوگ طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ اس طرح کی قلت میں صاف پانی کی دستیابی بھی شامل ہے، جس کا براہ راست اثر انسانی صحت پر ہوتا ہے، کیونکہ انسانی جسم میں پانی خوراک اور خون کا لازمی جزو بن کر شامل ہے اور اگر پانی صاف اور صحت بخش نہ ہو تو وہ کیا ایک صحت مند جسم کی نشونما کر پائے گا۔

اس سلسلہ میں ایک بات سب سے ذیادہ قابل غور ہے کے بین الاقوامی امداد صرف وقتی طور پر ہی صرف فائدہ دے سکتی ہے، اگر ہم طویل المیعاد ثمرات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو  ہمیں مقامی امن اور استحکام کو فروغ دینا ہوگا۔ ممالک کو ان وجوہات پر قابو پانے کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے جو کے غیر یقینی صورتحال کا باعث بنتی ہیں۔ مزید براں دور اندیش  اور  مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے افلاس و غذائی بحرانوں  کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

Courtesy of Samaa TV