شتر بے مہار بد عنوانی اور رشوت ستانی، قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹ

جن ممالک میں کرپشن کا جن بے قابو ہے انہوں نے تمام تر مسائل کے باوجود بھی اپنی معاشی نمو میں بتدریج بہتری دیکھی ہے اور وہاں اس بد عنوانی کا دائرہ کار مخصوص حلقوں تک ہی محدود رہا ہے لیکن پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں رشوت خوری وبائی شکل میں پھیل چکی ، اور اب ہماری معاشرتی اقدار کی حصہ بنتی جا رہی ہے۔

اگر آپ اپنے گلی محلے کی صفائی ستھرائی کے لئے حکومت کی طرف سے معین کردہ خاکروب سے بھی کام لینا چاہیں تو آپ اس سے بھی اُس وقت تک کام نہیں لے سکتے، جب تک آپ اُس کی ہتھیلی پر سو پچاس نہ دھر دیں۔ یہی حال محکمہ بجلی، گیس اور پانی کا ہے، جہاں کنکشن حاصل کرنے کے مراحل میں آپ کو بارہا مواقع پر افسران کی جیب گرم کرنا پڑتی ہے۔ اگر آپ کو کسی قسم کا لائسنس حاصل کرنا ہو، چاہے وہ ٹریفک پولیس کا ادارہ ہو یا ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ ہی حاصل کرنا ہو، آپ کو حاضر افسر کی “خدمت” بجا لانی پڑے گی۔

اگر “غلطی” سے آپ ایک “ایمان دار ٹھیکیدار” ہیں، اور آپ نے “خوش قسمتی” سے کسی قسم کا سرکاری تعمیراتی ٹھیکہ حاصل کر لیا اور کام کی تکمیل کے مراحل کے بعد آپ اپنے اخراجات و مصارف کی وصولی کے لئے متعلقہ محکمہ سے رابطہ کریں تو مُروجہ نظام کے مطابق آپ کے کام کے معیار کی جانچ پڑتال کروائی جاتی ہے، اور آپ کی “مزید خوش نصیبی” کے آپ اس پڑتال میں سُرخرو ہو جائیں تو حتمی منظوری کے لئے آپ کو متعلقہ ذمہ دار کو “چائے پانی” دینا پڑے گا۔  فرض کیا کہ اگر آپ کی “دیانت داری” یہ گوارہ نہ کر سکی تو پھر تیار ہو جائیے عدالت میں پیشیاں بھگتنے کے لئے؛ اور پیشی کی تاریخ حاصل کرنے کے لئے آپ کو “پیشکار” کی خدمت تو پھر بھی کرنا پڑے گی۔

کرپشن اور رشوت خوری کا کیا انجام ہو گا اسکے بارے میں کوئی واضح رائے نہیں دی جا سکتی، کیونکہ تاحال ہمارے ملک کا سیاسی، عدالتی، سِول اور انتظامی نظام جان بوجھ کر انتہائی پیچیدہ، مبہم اور ناقابِلِ رسائی بنایا گیا ہے جس کو سمجھنا عام عوام کے بس کا روگ نہیں ہے، وہ صرف احتجاج کر سکتے ہیں، اور اس نظام سے فائدہ اٹھانے والے اس نظام کی بہتری اور شفافیت پیدا کرنے کا کوئی موقع نہیں دیتے۔ ہمارے نظامِ انصاف، معززجج حضرات اور عدالتوں پر بہت زیادہ بوجھ ہے۔ جج حضرات لاکھ کوشش کر لیں لیکن حقیقت ہے کہ کام کی زیادتی بہت زیادہ ہے اور ایک ایک جج صاحب کو بیسیوں کیسز کی سماعت کر کے فیصلے صادر کرنا پڑتےہیں، اور بہتری کوششوں کے باوجود یہ بار ہلکا ہونے میں نہیں آرہا۔ اس چیز کا فائدہ بے ضمیر لوگ اٹھاتے ہوئے عوام کا استحصال جاری رکھتے ہیں۔

ایک المیہ یہ بھی ہےکہ ہمارے سرکاری افسران کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں، اور وہ ان اختیارات کانا جائز اور ذاتی  استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے جس کی وجہ سے وہ نجی اداروں، کاروباری حضرات، اور عوام کو “بلیک میل” کرنے سے بھی نہیں چونکتے، اور اگر وہ کچھ “رحم” کرتے ہوئے معاملات کو چلائیں تو انکا سب سے قوی حربہ تاخیر اور مزید تاخیر  کرنا ہوتا ہے۔ لوگ اپنی مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے پھر “ذرائع” کی تلاش شروع کرتے ہیں اور پھر ان کی ملاقات اُس افسر کے فرنٹ مین” سے ہوتی ہے، جو کہ مروجہ ریٹ کے مطابق آپ سے “سپیڈ منی” یعنی رشوت لے کر آپ کے معاملات حل کروانے کا عندیہ دیتا ہے اور اپنا کمیشن سائیڈ پر کر کے افسر کی “خدمت” میں پیش کرتا ہے اور یوں کام نکلتا ہے۔

ان تمام بے اعتدالیوں کا نقصان اور خمیازہ ہماری معیشت کو بھگتنا پڑتا ہے، اوریہ ہمارے ملک کی بدنامی کا باعث بنتا رہتا ہے۔ خصوصاً سرکاری افسران اور نظام کی خامیوں کا مبینہ فائدہ دھشت گرد تنظیمیں بھی حاصل کر سکتی ہیں اور بغیر روک ٹوک کے کالا پیسا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔ مزیدبراں وہ اس سرمائے کو تخریبی سرگرمیوں کی انجام دہی میں استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی کسٹم افسر بغیر جانچ پڑتال کئے امپورٹ کے کنٹینر کلیئر کر دے تو عین ممکن ہے کے تجارتی مال کی برآمد کی آڑ میں خریدار غیر قانونی اسلحہ یا بارودی مواد بھی اسی طرح رشوت دے کر کلیئر کروالے۔  جہاں اس طرح کے مسائل ہوں وہاں غیر ملکی سرمایہ دار آکر کیونکر صنعت اور کاروبار شروع کریں گے، جہاں کچھ لیئے دیئے بغیربات آگے نہ بڑھتی ہو۔ اُسے کس طرح تحفظ اور یقین ہو کے ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کا اسکا یہ فیصلہ دانشمندانہ اور اسکا سرمایہ محفوظ ہے۔

بہرحال مقصد یہ ہے کہ بحیثیت قوم اور ایک معاشرہ کے طور پر ہمیں ایسی اقدار کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جس میں کسبِ حلال کا حصول باعث افتخار ہو اور غیر اخلاقی، ناجائز و غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کرنے کی سعی کی حوصلہ شکنی ہو اور اسکو عظیم برائی مانا جائے، اور جہاں ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو فوقیت دی جائے۔