کیا خودکارسازی انسانیت کیلئے زہر کُند ہوتی جارہی ہے؟

ہمارا یہ خوف کے روبوٹ ہماری نوکریاں چھین لیں گے کچھ نیا نہیں، اسی طرح کا واقعہ ملکہ الزبتھ اول کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے، جب قریباً 5 صدی پہلے موجد ولیم لی نے اپنی ایجاد کردہ خود کار کھڈی کا پروانہ حاصل کرنے (پیٹنٹ) کیلئے عرضی پیش کی تو ملکہ نے یہ کہہ کر درخواست رد کر دی کہ یہ ایجاد ہزاروں عورتوں اور مساکین کو بیروزگار کر دے گی لیکن اس کے باوجود صنعتکاروں کو اس کے استعمال سے روکا نہ جاسکا۔

جہاں جہاں خودکار سازی متعارف کروائی گئی اس نے انسانیت کیلئے طرح طرح کے چیلنج پیدا کئے ہیں، جہاں اس نے کام کرنے کے طریقہ کار بالکل ہی بدل کر رکھ دیا، شمارندی خودکاری نے انسان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، جو حساب کتاب دو لوگ ایک دن صرف کرکے مکمل کرتے، اس کیلئے یہ مشینی اذہان لمحہ بھر صرف کرتے ہیں، بدقسمتی سے انسان اس قسم کی تبدیلی کو جلد قبول نہیں کر پاتا کیونکہ وہ جذباتی طور پر اس کیلئے تیار نہیں ہو پاتا۔

بنی نوع انسان پر خود کارسازی کا دوہرا اثر پڑتا ہے، اول یہ جسمانی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور دوم انفرادی اور اجتماعی رویوں اور ذہنوں پر اپنا نقش چھوڑتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات مقامی رسم و رواج اور ثقافت کو بھی اپنے حیطہ عمل میں لیتے ہیں۔

ایک مزدور یا بڑھئی تو اس تبدیلی کو جذب کرلے کیونکہ یہ عوامل ان کی استعداد کار کو بہتر بناتے ہوں اور اس تمام سہولت کے باوجود اس کو بے روزگار نہ ہونا پڑتا ہو کیونکہ مشین کی کارکردگی کو جانچنے کیلئے پھر بھی ایک انسان کی ضرورت موجود رہتی ہے، تاہم اُن کا کیا جو دفتروں میں بیٹھ کر وائٹ کالر جاب کررہے ہیں۔

یہ تمام عوامل اور محرکات مینجمنٹ اور کارکنوں کیلئے سنجیدہ اور گھمبیر صورتحال کا باعث بن رہے ہیں، اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی میں بہتری کے ثمرات تمام لوگوں میں یکساں تقسیم ہوں، لوگ انفرادی طور پر یا اپنی ذات میں تکالیف اور مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور بعض اوقات کسی بڑی فیکٹری کے خاص حصے میں، یا ایک خاص پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگ اس ٹیکنالوجی کے انقلاب کی وجہ سے دربدر اور بیروزگار ہوسکتے ہیں، یا پھر کام کی نوعیت میں تبدیلی کی وجہ سے لوگ ذہنی ہیجان اور اکیلے پن کا شکار ہوجائیں۔

خودکارسازی ایک متوازن اور یکساں معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے نظر نہیں آتی، بلکہ یہ دو مختلف اور یقیناً متضاد معاشروں میں لوگوں کو تقسیم کررہی ہے، شاید قیادت کا شعبہ ہی صرف رہ جائے جس کو خودکار نہ کیا جائے، بنی نوع انسان کی معدومیت یا عمل انگیزی سے دور رکھنے کا فتنہ شاید اگلی صدی تک مکمل طور پر پھیل چکا ہو۔

یہ بات بالکل درست ہے کہ ٹیکنالوجی میں بہتری سے معیار، مقدار اور لاگت میں حیرت انگیز حد تک کمی لائی جا سکتی ہے، مگر یہ تمام عوامل ہر سال لاکھوں لوگوں کو بیروزگار بنا رہے ہیں، لوگوں کو جو مراعات پنشن، علاج معالجہ کی سہولیات کی شکل میں ملتی تھیں، اُن کے معدوم ہوجانے کا خطرہ موجود ہے اور جہاں کام کرنیوالے صاحب روزگار کارکنان کی تعداد محدود ہو تو وہاں بیروزگار لوگوں کا کیا حال ہوسکتا ہے؟، یہ بات ایک عظیم خطرے کے طور پر سامنے موجود ہے۔

آجر کو تو فائدہ ہی فائدہ ہوگا کیونکہ انسان کو تو ان تمام چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ان تمام سہولیات کی فراہمی پر کثیر سرمایہ صرف ہوتا ہے اور کاروباری نظریہ سے وہ مشینوں خصوصاً خودکار سازی پر ہی سرمایہ لگائے گا، کیونکہ اُس میں پنشن وغیرہ جیسے اخراجات نہیں پائے جاتے، مشین ہے، اگر خراب ہو جائے تو کچرے میں پھینک کر نئی بھی لگائی جاسکتی ہے۔

اب تو خودکارسازی کے اثرات پوری دنیا میں نظر آنا شروع بھی ہوچکے ہیں، عالمی پیمانے پر صنعتی روبوٹس کے استعمال میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے، روبوٹس کی قیمتوں میں مسلسل کمی ہوتی جارہی ہے، جو کہ پورا پورا دن بغیر رکے کام کرتے ہوئے انسانیت کو مقابلے میں پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔ خدمات کے شعبے میں کمپیوٹر الگورتھم کو استعمال کرتے ہوئے بازار حصص میں خرید و فروخت کی جارہی ہے، جہاں کمپیوٹر کسی انسان سے کہیں تیز، ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں حساب کتاب کرکے نفع و نقصان اور آئندہ ممکنہ پیش آنیوالے واقعات کی پیشن گوئی کردیتا ہے۔

بعض چیزیں ایسی ہیں جہاں انسان کی ضرورت پھر بھی باقی رہتی ہے اور ہمیں اس تفریق اور کمی کو مثبت چیز میں بدل کر ملازمین کی بہبود و ترقی کیلئے استعمال کرنے کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

Originally posted on Samaa TV blog.