سندھ والوں کا اللہ ہی حافظ ہے

جس دن سے ہمارے ملک کو آزادی ملی، فائر بریگیڈ اور ریسکیو کے محکمے کے نظام میں بہتری اور ترقی سندھ کی متواتر تمام ہی حکومتوں کی ترجیحات میں شامل نہ ہو پائی۔ متعدد عظیم سانحات ماضی اور حال میں بارہا  شہریوں کی جان و املاک کی تباہی کا باعث بنتے رہے، جس کا اگر تخمینہ لگایا جائے تو مالیت اربوں روپے بنتی ہو گی۔

موجودہ محکمہ جات  میں وسائل کی کمی جیسے کے سازوسامان اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی شدید قلت کی وجہ سے عوام اور عملے کے افراد کی قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوتا رہا ہے۔ اس محکمہ کو جدید خطوط اور بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے کی اشد ضرورت ہے۔

کراچی جیسا شہر جو ملک کی تعمیروترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس میں  اگرخدانخواستہ کسی ہنگامی صورت حال یا آگ لگ جانے کی صورت میں، شہر کے کسی دوسرے حصے میں ایسا ہی کوئی حادثہ پیش آ جائے تو فائر بریگیڈ کے محکمے کے پاس اتنے وسائل اور مشینری نہیں ہے کے وہ دونوں جگہ کی صورت حال پر قابو پاسکے۔

ان دنوں اس محکمے کے حالات مغلیہ سلطنت کے آخری دور جیسے ہو گئے ہیں، کہ گویا چراغ سحری ہے کے کب بجھ جائے، یہ صورت حال شہرقائد کے لئے تباہ کن اور انتہائی مہلک ہے۔ پاکستان مین سانحات چاہے ان کی نوعیت کیسی اور کتنی ہی شدید ہو کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ مگر بدقسمتی سے ان سانحات کو برداشت کرنے اور ہنگامی صورت حال پر قابو پالینے کے سلسلے میں ہماری تیاری بالکل ناکافی ہوتی ہے۔

سرکاری اور نجی سطح پر بہترے ادارے ہونے کے باوجود کسی ہنگامی صورتحال میں چاہے وہ خود ساختہ یا قدرتی وجوہات کی بنیاد پر واقع ہوئی ہو، آپس میں رابطوں کے فقدان کی وجہ سے نقصان کی شرح بہت بڑھ جاتی ہے۔ اگر ایدھی صاحب اور ان ہی کی طرح کے دیگر لوگوں کے بنائے ہوئے ادارے  نہ ہوتے تو دور دراز کے علاقوں  کےلوگوں کا کیا بنتا، جہاں  ریاستی ناکامی کی وجہ سے کسی قسم کی سہولیات ابھی بھی نہ پہنچ سکیں۔  افسوس کے ساتھ بیوروکریسی  ان لوگوں کو بھی نہیں بخشتی جو کے دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔

سندھ کی شاہراہیں موت کا پھندہ بنتی جا رہی ہیں، ہولناک حادثات روزمرہ کا معمول ہیں اور ذمہ داران ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ انہیں لوگوں کی مشکلات کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی وہ عوامی مسائل کے حل کے سلسلے میں سنجیدہ ہیں۔ جب بھی کوئی ٹریفک حادثہ (جیسے کے آئل ٹینکر جو کے اکثر و بیشتر حادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں) پیش آتا ہے تو الزامات لگانے کی دوطرفہ جنگ چھڑ جاتی ہے۔ ان لوگوں میں حدود کا تعین ہی نہیں ہو پاتا۔

سندھ کے بعض سڑکیں صوبائی  محکمہ مواصلات کے انتظام کے تحت ہیں تو بعض این ایچ اے کے، جو کے ایک وفاقی ادارہ ہے۔ صرف پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں ہی مکمل فعال ریسکیو 1122 کا ادارہ موجود ہے، جوکے ہنگامی صورت حال میں چاہے وہ کہیں ٹریفک حادثہ ہو یا کسی عمارت میں آگ لگی ہو  یہاں تک کے کوئی پالتو جانور کسی کنویں میں ہی کیوں نہ گر جائے ہنگامی امداد کو بروقت پہنچتا ہے۔ اس سروس کا آغاز پنجاب کے وزیر اعلٰی پرویز الٰہی نے سال 2004 میں کیا جس کی عالمی طور پر پزیرائی کی جاتی ہے۔ اس سروس کا خیبر پختونخواہ میں اجراء اے این پی کی حکومت نے اپنے پچھلے دور  میں کر کے اپنے صوبے کی عوام کی حقیقی ضرورت کو پورا کیا۔

مگر حیران کن بات یہ ہے کے سندھ میں اس طرح کی سروس ابھی تک متعارف نہیں کروائی جاسکی۔ یقیناً کراچی میں ریسکیو 1299 نامی ایک سروس کام کر رہی ہے لیکن اس کا معیار اور کام کسی بھی طرح پنجاب کی سروس جیسا نہیں۔  یہ عوام کے ساتھ ذیادتی کے مترادف ہے اور یہ کسی طرح سے بھی مناسب نہیں، اس حق تلفی کو فوری طور پر دور کرنا چاہیئے۔

حکومت سندھ کو چاہیئے کے وہ اس ضمن میں وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخواہ سے تکنیکی معاونت اور تعاون حاصل کر کے، ریسکیو 1122 کے ماڈل پر ہمہ جہتی سروس کا عوامی مفاد میں جلد از جلد آغاز کرے ، تاکہ بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ دور دراز کے چھوٹے شہروں اور گوٹھ کے عوام کو سہولت پہنچائی جا سکے، جو کے یقیناً ان لوگوں کے احساس محرومی کو بڑی حد تک دور کر پائے گا۔

Originally posted on Samaa TV blog.