ریزگاری نہیں ہے

وہ کسی بات پر بہت برہم نظر آ رہے تھے، میں نے تجسس کی بنیاد پر پوچھا “محترم آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔ کہیں تو ہسپتال لے چلوں،۔۔۔ آپ کو ہائی بلڈ پریشر کی شکایت تو نہیں ہے؟ “۔

 

یہ سُن کر وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگے اور یکدم اُن کے چہرے پر نرمی کے آثار نمودار ہونا شروع ہوئے، کہنے لگے “بیٹے میں بالکل ٹھیک ہوں بس میری عمر اب باسٹھ برس سے اوپر ہو گئی ہے، چھوٹی چھوٹی چیزوں پر غصہ آ جاتا ہے اور خواہ مخواہ ذہنی تناؤ کا باعث بنتی رہتی ہیں”۔

 

میں نے اثبات میں سر کو جنبش دی تو کہنے لگے “اب یہ ہی دیکھ لومیں ایک ریٹائرڈ ملازم ہوں اور گزر بسر کے لئے چھوٹی موٹی محنت مزدوری کرتا ہوں تاکہ گھر کا چولہا جل سکے، لیکن بُرا ہو اُن کا جنہیں کم از کم میری عُمر کا خیال بھی نہیں آتا” ۔ میں باعثِ حیرت اُن کے الفاظ کے تانے بانے جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے مطلب اخذ کرنے کی تگ و دو میں یہ ہی سمجھ سکا کہ ضرور ان کے ساتھ کچھ نا انصافی اور حق تلفی ہوئی ہو گی ۔

 

میں اپنا اضطراب چھپا نہ سکا اور پوچھ بیٹھا “جناب خیریت تو ہے آپ کی باتوں میں مجھے مایوسی کا اظہار بھی نظر آتا ہے؟” کہنے لگے “بیٹا چند دن پہلے پنشن کی رقم ملی ہے اور اسی طرح ایک دن میں بجلی کا بل بھرنے کے لئے بنک گیا تھا، نو سو چھیاسی روپے بل کی رقم بنتی تھی، کیشیئر کو میں نے بل کے ساتھ ایک ہزار کا نوٹ ادائیگی کے لئے دیا اس نے بل پر مہر اور دستخط کر کے دس روپے کا نوٹ بقایا رقم کے طور پر واپسی کیا، میں جب مڑنے لگا تو میں اپنے ذہن میں بقایا رقم کا حساب بھی کر رہا تھا تو معلوم ہوا کے کیشیئر نے چار روپے مزید دینا تھے جو کہ اُس نے نہیں دیئے”۔

 

انہوں نے ایک ساعت کا وقفہ لیا اور بولے “میں نے جھٹ سے کیشیئر سے کہا کے بیٹی آپ نے چودہ روپے بقایا دینے تھے، آپ دس دے رہی ہیں، مزید چار روپے بھی واپس کریں، تو وہ کہنے لگی بابا میرے پاس سکے نہیں ہیں، میں بقایا نہیں دوں گی”۔

 

“یہ سن کر میں حیران رہ گیا کہ کہنے کو تو یہ بنک ہے، جس کا کام ہی ہر قسم کی رقوم کا لین دین ہے، اگر ان کے پاس ہی سکے اور ریزگاری نہیں ہو گی تو ایسے بنک کے وجود کا کیا فائدہ اور میں نے اس کا برَمِلا اظہار بھی موقع پر کر دیا تو کہنے لگی بابا جب کہہ دیا کہ ریزگاری نہیں ہے تو نہیں ہے، تم کھلے چھ روپے لے آؤ تو میں تمہیں دس کا نوٹ دے دوں گی”۔

 

انہوں نے پُر تاسف لہجے میں کہا “میں اُس کے لہجے اور ہمت پر ششدر رہ گیا، خصوصاً اُس کے لفظ “آپ” کے بجائے “تم” کے استعمال پر، جو کہ مجھ ناتواں کے لئے تمانچے سے مشابہہ حیثیت رکھتا تھا۔ میں مزید کچھ کہے سُنے بغیر الٹے پاؤں پلٹ کر سیدھا برانچ منیجر کے پاس پہنچا جو کے اُدھیڑ عمر ہونے کے ساتھ ساتھ معقول اور جہاندیدہ شخص دکھائی دیتا تھا “۔

 

“خوش قسمتی سے اُس نے میری بات سُنی اور یقیناً وہ کسی حد تک ماجرا سمجھ گیا اور کہنے لگا کہ محترم آپ تشریف تو رکھیں، میں دیکھتا ہوں اور میں میز کے سامنے کرسی پر براجمان ہو گیا۔ اس نے پاس پڑے فون سے چند نمبر ڈائل کئے اور آپریشن منیجر کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ برانچ میں چینج کی دستیابی کی کیا صورتِ حال ہے، تو اس نے بتایا کہ روز مرہ کی ضرورت کے حساب سے کافی ہے، جس پر منیجرنے مزید استفسار کرتے ہوئے سکوں کی دستیابی کے بارے میں بھی پوچھا، جو کہ آپریشن منیجر کے قول کے مطابق تسلی بخش تعداد میں موجود تھے”۔

 

“برانچ منیجر یہ سننے کے بعد کمرے سے باہر نکل کر سیدھا اُس کیشیئر کے پاس پہنچا، اور پوچھا کہ میڈم آپ گاہکوں کو سکے بطور چینج کیوں نہیں واپس کر رہیں؟ تو وہ لاجواب ہو کر کبھی میری اور کبھی منیجر کی طرف دیکھتی رہی۔ اسی اثناء میں برانچ منیجر بولا کہ آپ کی آج شام کی کلوزنگ تمام عملے اور دیگر افسران کے سامنے ہو گی اور ہم آپ کا حساب دیکھیں گے۔ اس بات کا مطلب مجھے اور یقیناً اُس خاتون کو تو موقع پر بلکل سمجھ نہیں آ پایا، مگر مجھے منیجر نے بقیہ چار روپے ادا کروائے اور معافی بھی مانگی اور ساتھ گذارش بھی کی کہ اگلے دن دوبارہ برانچ میں آ کر ملاقات کروں”۔

 

“بہرحال میں اُن کے اسرار کے باوجود اگلے دن نہ جا سکا مگر آج کسی وجہ سے دوبارہ بنک جانے کا اتفاق ہوا تو منیجر صاحب نے خصوصاً روک کر ملاقات کی اور کہنے لگے کہ جناب آپ تو اُس واقعے کے بعد نہ آئے، لیکن اسی شام کلوزنگ کے بعد جب کیش کا حساب کیا تو اُن خاتون کے حساب سے کافی زیادہ رقم برآمد ہوئی، جو کہ یقیناً اسی طرح اکٹھا کی گئی ہو گی جو کہ کسی طرح سے بھی بنک یا اُس خاتون کی ملکیت ثابت نہ ہو سکی، بہرحال اُس خاتون کو فوری طور پر نوکری سے فارغ کر دیا گیا اور اُس کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں کہ آیا وہ یہ کام کتنے عرصے سے کررہی تھی وغیرہ وغیرہ”۔

 

میں ان بزرگ کی بات سُن رہا تھا اور محسوس کر رہا تھا کی وہ بات کرتے کرتے پرجوش ہوتے جارہے تھے جو کہ ہر ذی شعور اور ذمہ دار شہری کے احساسات ہوتے ہیں، لیکن یہ گفتگو پر مغز ہونے کے ساتھ ساتھ سیر حاصل بھی تھی کیوں کہ یہ امر ہمارے معاشرے اور نفوس کے اخلاقی دیوالیہ پن کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ یہ تو ایک برانچ میں موجود ایک کیشیئر کی کارستانی کا واقعہ ہے، ہمارے ملک میں بیسیوں بنکوں کی سینکڑوں شاخوں اور اسی طرح لین دین میں ملوث کاروباروں مثلاً جوتوں اور تیار شدہ ملبوسات کی دکانوں میں نہ جانے یہ کام کتنی مرتبہ ہوتا ہوگا۔

 

کبھی ڈاک خانے جائیے یا ہسپتال جائیے، چاہے آپ نے خط کا لفافہ حاصل کرنا ہو یا معائنے کے لئے پرچی کٹوانا ہو، آپ اس طرح کی صورتِ حال کا سامنا کریں گے۔ موقع پر موجود اہلکار اکثر سامنے موجود شخص کا نفسیاتی تجزیہ کر کے ایسا عذر پیش کر ہی دیتے ہیں کے “جناب کھلا نہیں ہے” اور لوگوں کی سادگی اور درگزر کرنے کے جذبے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے “چونا” لگا دیتے ہیں اور بعض اوقات ہزاروں روپوں کی “دیہاڑی” لگاتے ہیں۔

 

لوگوں کی ذہنی پستی کا عالم یہ ہے،کہ وہ اس طرح سے معمولی رقم مار لینا ایک فن کے طور پر لیتے ہیں، حالانکہ یہ سراسر غلط اور غیر قانونی ہے۔ ایسی سرگرمی پاکستان پینل کوڈ 1860 کی شق 415 اور 417 کی رو سے ایک جرم اور قابل تعزیر ہے۔ اگر بظاہر چھوٹی نظر آنے والے برائی پر کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کرتا تو اس کوبالحق مان لینا سراسر من مانی اور زیادتی ہوگی۔ اسی طرح کی چھوٹی چھوٹی غلطیاں اور من مانیاں بڑی برائی اور نقصان کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔ ہمیں اپنی اقدار بن جانے والی بے اعتدالیوں،من مانیوں اور خامیوں کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے تاکہ موجودہ معاشرے اور آئندہ آنے والی نسلوں کو ہم اچھا مستقبل دے سکیں۔

 

 

Originally posted here on Dunya Urdu Blog