سب خیراں ہون گیاں، پر

سردی کے دن تھے، میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ ایک اور دوست کے گھر کی چھت پر موسمی پھلوں کی ضیافت میں مشغول تھا۔ چند دوست تو سکول کے زمانے کے بعد کچھ ہی دن پہلے ملے۔ ہم خوش گپیوں میں مصروف ارد گرد آبادی و تعمیرات کے بدلتے ہوئے خدوخال کو دیکھتے ہوئے اپنے بچپن کی یادوں کو تازہ کر رہے تھے۔ ہمارے سامنے ہی کچھ فاصلے پر ایک زیرتعمیر عمارت کے باہر پلستر کا کام ہو رہا تھا، کاریگر کلی طور پر محو اور مکمل جانفشانی سے اپنے کام میں مصروف تھا جو ظاہر کرتا تھا کے وہ اپنے فن میں تاک ہے۔

بہر حال اسی دوران وہ مچان جس کے اوپر کھڑے ہو کر وہ راج مستری اور مزدور کام کرر ہے تھے دیکھتے ہی دیکھتے ایک زوردار کڑاکے کی آواز سےاُن اشخاص سمیت انتہائی تعجب خیز انداز میں زمین بوس ہوگیا۔ جب ہم موقع پر پہنچے تو وہاں چھوٹا سا مجمع لگا ہوا تھا، معلوم ہوا کے مچان اور اُس پر کام کرنے والوں کی حفاظت کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہ ہونے کے باعث حادثے میں، ایک مزدور کی بازو متعدد ضربات کے ساتھ ٹوٹ گئی اور اس کی گردن میں موچ آئی جوکہ اُس کے لئے ناقابل برداشت اور انتہائی تکلیف دہ امر تھا۔

اسی دوران کسی نے رفاہی ادارے کی ایمبولنس کے لئے فون کیا، جواسی دوران وہاں پہنچ گئی، معلوم ہوا کہ وہ مریض کو ہنگامی طبی امداد نہیں دے سکتے، کسی نے پوچھا کیا ادویات نہیں ہیں تو وہ رضاکار کہنے لگے آپ ادویات کی بات کرتے ہیں، ہماری ایمبولینس میں ڈرائیور کا سیٹ بیلٹ تک نہیں ہے، ہم تو صرف اس جذبے سے آئے کے کسی مریض کو ہسپتال پہنچا کر جہاں تک ممکن ہو اس کے لئے آسانی پیدا کریں۔ بہرحال اس بیچارے مزدور کو طبی امداد کے لئے ہسپتال لے جایا گیا اور اُس کا علاج معالجہ اُس کے ٹھیکیدار نے شروع کروایا۔

یقیناً یہ واقعہ پہلے بار پیش نہیں آیا، لیکن ہر بار، ہر جگہ کہانی ایسی ہی ہوتی ہے کہ حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی کی وجہ سے فلاں فلاں حادثہ پیش آیا، لیکن بدقسمتی سے ہم ان حادثات سے کچھ سیکھتے نہیں ہیں۔ حتٰی کہ ہماری قوم کو ابھی تک سڑک پر سیدھا چلنا تک تو نہیں آیا، مغربی ممالک میں اپنی لین سے ہٹ کر ڈرائیونگ کرنے پر ڈرائیور حضرات کو بھاری بھرکم جرمانے ادا کرنے پڑتے ہیں لیکن پاکستان میں اوور ٹیکنگ کرتے وقت آگے اور پیچھے والی گاڑیوں کی پرواہ کئے بغیر صرف اپنی سہولت کو دیکھا جاتا ہے جو بعض اوقات بڑے حادثات کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔

اگر صنعت و حرفت کی بات کی جائے تو ہمارے ہاں ذاتی حفاظتی آلات کا استعمال تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، اور تو اور ہمارے کارکنوں، مزدوروں کو اس کا شعور بھی نہیں ہے، لوگ زیادہ تر خدا کے بھروسے کام چلاتے ہیں، انہیں یہ نہیں سمجھ کے جان کی حفاظت کرنا بھی فرض ہے۔ اصل میں عوام میں پیشہ ورانہ حفاظت اور احتیاط کی تعلیم ہی نہیں ہے، شاید اس کی ایک وجہ پاکستان میں موثرقوانین کا عملاً نہ ہونا بھی ہے، اگرچہ اس سے متعلقہ چند قوانین موجود بھی ہیں مگر عملاً اُن کا اطلاق اور عوام کی ان سے آگہی نہ ہونے کے برابر ہے،مزید براں آزادانہ طور پر محنت مزدوری یا دیہاڑی دار لوگوں کو ان کے ثمرات عملاً حاصل ہونا تقریباً ناممکن ہی لگتا ہے، شاید اسکی وجہ ان قوانین کی پیچیدگیاں اور ضابطہ کار ہوں جس سے نیم خواندہ محنت کش بالکل ناآشنا ہیں۔ مزید اِن میں سے بہتے قوانین عشروں اور بعض تو شاید ایک صدی سے بھی پرانے ہیں، جو کے عصری تقاضوں کا احاطہ نہیں کرتے۔

دوسری طرف اگر ہم آجرین کی بات کریں تو شاید وہ جان بوجھ کر اپنے کارکنوں کو اسکی تعلیم نہیں دیتے، کیونکہ ان کے خیال کے مطابق کارکن کی تربیت پر اخراجات آئیں گے، اور اگر کاریگر یہ سب چیزیں سیکھ جائے تو وہ ضرور حفاظتی سامان مثلاً جوتے، دستانے، مناسب لباس اور اوزاروں کی فراہمی کا مطالبہ کرے گا، جو کہ اُس آجر کے اخراجات میں اضافے کا موجب بنے گا، جس کا مطلب دوسرے معنوں میں اُس کے منافع میں کمی بھی نکلتا ہے، یقیناً وہ ان چیزوں سے اجتناب کرے گا۔ یہیں سے ہمارے سرکاری اداروں کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے، کہ وہ قوانین پر عمل کروائیں، لیکن اکثر یہ دیکھا گیا، کہ سوشل سیکورٹی وغیرہ کا عملہ آجرین کے ساتھ ساز باز کر کے “سب اچھا ہے” کی دستاویز مرتب کر کے داخل دفتر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بیچارے محنت کشوں کا استحصال جاری رہتا ہے۔ میرے کسی جاننے والے نے بتایا کے فیکٹری ایکٹ کا اطلاق بعض صورتوں میں دس افراد سے کم تعداد والے اداروں پر نہیں ہوتا، لہٰذا ہمارے ملک میں اکثریتی ادارے جن میں کام کرنے والوں کی تعداد پانچ سے بھی کم ہوتی ہے، لوٹ مچا کر رکھتے ہیں، کیونکہ اس سقم سے اُن کو عملاً قانون کی عملداری سے استثناء ملتا ہے۔

لیکن ہم قوانین کی عدم موجودگی یا عدم فعالیت کا بہانہ نہیں بنا سکتے، ہمیں اپنی اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیئے، کیا کوئی قانون کسی کو اچھی چیز سے روکتا ہے، یقیناً یہ بھی صدقہ جاریہ ہے کے ہم کسی کو شعور یا آگہی دیں، ہو سکتا ہے کہ ہماری صلاح سے کوئی کسی حادثے سے بچ جائے۔ اس سلسلہ میں جالبین، بعیدنماء اور تعلیمی اداروں خصوصاً چھوٹے بچوں کے تعلیمی نصاب کے ذریعے ایک تشہیری مہم کی طرح تبلیغ کرنی چاہیئے، تاکہ لوگوں کو صحیح اور غلط کا فرق معلوم ہو اور وہ اپنے حقوق و فرائض کو سمجھیں۔ مزید براں ہمیں اپنے موجودہ قوانین میں بہتری لا کر ان پر عمل درآمد یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ سب سے ضروری ہمیں اپنی لاپرواہی کی عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیئے، کیونکہ لاپرواہی کا کسی بھی حادثے کے محرکات میں سب سے زیادہ ہاتھ ہوتا ہے۔