معیارتعلیم کی بہتری کیسے ممکن؟

تحریر: شہروز کلیم

ہم اکثر سنتے رہتے ہیں کہ پاکستان ہی دنیا میں وہ واحد ملک نہیں جہاں کے نظام تعلیم میں خامیاں موجود نہ ہوں۔ مگر اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ ہمیں یہ حقیقت جان لینے کے بعد خاموش تماشائی کی صورت اختیار کرلینی چاہیئے۔ بلکہ ہمیں چاہیئے کی ان مسائل کی شناخت کر کہ ان کے حل کی سعی کریں۔ یقیناہمیں بہتری بین الاقوامی معیارات کے مطابق اپنے نظام کو لانے کی ضرورت ہے، لیکن اُس سے پہلے ہمیں کئی چیزوں کو درست کرنا ہے۔ اس ضمن میں ہم خامیوں پر سب سے پہلے نظر کریں گے۔

پاکستان کے تعلیمی نظام میں عمومی طور پر درج ذیل خامیاں پائی جاتی ہیں۔

دوہرا نظام تعلیم

مواد تعلیم و سہولیات میں فرق

صنفی امتیاز

فنی تعلیم کی عدم ترجیح

سرمائے کی کمی

غیر تربیت یافتہ اساتذہ

غربت

سماجی پیچیدگیاں

دستیاب سہولیات کا غیر موثر استعمال

ان مسائل کی شناخت کے بعد ہمیں اور حکومت ِوقت کو چاہیئے کہ ہم اس کے حل کے سلسلہ میں ٹھوس اقدامات کریں۔ سب سے پہلے پالیسوں پہ عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ صوبوں کو چاہئے کہ اضلاع کو (اور پھر اداروں کو) وسائل کی تقسیم سہل بنیادوں پر ہو۔

اساتذہ کو دور جدید کے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لئے ان کی مستقل بنیادوں پر تربیت جاری رکھی جائے۔دور جدید کے تدریسی نظام کو فروغ دیا جائے۔ فنی تعلیم کو خصوصی طور پر بنیادی اور ثانوی نظامِ تعلیم کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ بنیادی تعلیم کا عمومی فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں زندگی کے تمام مکتبہ ہائے فکر کو بالعموم اور اساتذہ و علماء کو بالاخصوص اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔

نصاب تعلیم میں تبدیلی و ترویج کے وقت ماہرین کی آراء کے ساتھ ساتھ عام عوام سے بھی آراء لی جائے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ ملک کہ مختلف علاقوں میں با اثر افراد و جاگیرداروں کے زیر قبضہ تعلیمی اداروں پر سے انکا قبضہ ختم کروا کے وہاں تعلیمی سرگرمیاں شروع کروائے۔

طلباء کے معاشی مسائل کے حل پر توجہ دی جائے اور ان کو بالعموم مالی امداد فراہم کی جائے، اس ضمن میں بلدیاتی ادارے اور مقامی عہدیدار کلیدی کردار ادا کر سکتے ہوئے وسائل کی منصفانہ اور شفاف بنیادوں پرتقسیم کریں تاکہ حق، حقدار تک صحیح معنوں میں پہنچ سکے۔

بدعنوانی اداروں کے لئے زہر قاتل ہے، لہذا تعلیمی اداروں میں سے بد عنوانی کا خاتمہ کیا جائے۔ طلباء پر بیسیوں کتب کا بوجھ ڈالنے کے بجائے ان کو بنیادی تصورات قابل فہم انداز میں سمجھائے جائیں۔ اس سے طلباء کا اعتماد بحال ہو گا اور وہ دل جمعی سے حصول علم کی کوشش کریں گے۔

ہمیں یہ یقین رکھنا ہے کہ معیاری تعلیم کے ذریعے ہی ہمارے مسائل اور سماجی برائیوں کا حل ہو گا۔ ہمیں ہی تاثر ختم کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم تعلیم کو اچھا روزگارحاصل کرنے کے لئے بطور سیڑھی استعمال کریں گے، بلکہ ہمیں چاہیئے کی ہم تعلیم کو بنیادی طور پر شخصی اصلاح و بہبود کا منبع مانیں۔

پاکستان کے نظام تعلیم میں بہتری اکیلے حکومت کے لئے ممکن نہیں، دریں اثناء عوام و خواص مل کر قوم کوجہالت کی تاریکیوں سے نکال باہر کرنے کی کوشش نہ کر لیں۔ اسی طرح اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو جب تک ہنر سے مزین نہیں کریں گے، اس وقت تک وہ ہماری قوم کا سرمایہ نہیں بن سکتے۔

 

 

Courtesy of Samaa TV