سیٹھ اور نوکر کا فرق

روزی روٹی کے حصول کے دوراں ہم اکثر آجر اور کارکن، مالک اور نوکر جیسے الفاظ سنتے ہیں۔عام طور پر ہم سیٹھ ایسے شخص کو سمجھتے ہیں جو کہ کاروبار کا مالک ہوتا اور نوکر وہ جو کہ اُس سیٹھ کی خدمت بجا لاتا ہے، اس ہی تعریف کے دائرے کے گرد لوگوں کی زندگیاں گھومتی ہیں، اچنبہ کی بات یہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو حقیقی مان لیتے ہیں، درحقیقت یہ فرق اس سے کہیں زیادہ ہے۔

نوکر وہ ذی روح ہے جو کسی سیٹھ کے لئے کام کرتا ہے، جس میں وہ سیٹھ یا صاحب بہادر اُس کی اس کی خدمات کے عیوض اجرت یا تنخواہ دیتا ہے۔ ملازم کو ایک خاص مقصد کے تحت بھرتی کیا جاتا اور سیٹھ کا اُس پر مکمل اختیار تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ پیسے دے کر ہر قسم کی مشقت لے سکتا ہے۔ ملازم اپنی  خدمات کے بدلے اپنے مالک سے تنخواہ، علاج معالجہ اور برے وقت میں کام آنے کی توقع رکھتا ہے۔ ملازم اپنے سیٹھ کے رحم وکرم پر ہوتے ہوئے اپنی گزربسر کرتا ہے کیونکہ وہ کسی بھی وقت اس کا رزق چھیننےکے درپے ہونے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس کی خود مختاری آجر کے حکم سے مشروط ہوتی ہے۔وہ عام طور پر ڈرپوک ہوتا ہے کیوں کہ اس کے پاس داؤ لگانے کے لئے تقریباً کچھ نہیں ہوتا سوائے نوکری کے۔

سیٹھ وہ چیز ہے جو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے ملازمین کو کام پر رکھتا اور ان سے اپنے مقصد کے حصول میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرواتا ہے۔ یہاں سیٹھ سے مراد کوئی شخص یا ادارہ بھی ہو سکتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اداروں میں مالکان ملازمین سے بعض اوقات کام دوسرے ملازمین کے ذریعے نکلواتے ہیں۔ سیٹھ کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی من مرضی کی شرائط اور چنے گئے معیار کے مطابق بیگار لے سکے، اور اگر کسی موقع پر اُس کے مقصد کے حصول میں کوئی کوتاہی یا کمی رہ جائے تو وہ ملازم کو بےدخل کر سکتا ہے۔  سیٹھ عام طور پر کسی کو جوابدہ نہیں ہوتا اور اپنے اچھے برے کا بنیادی ذمہ دار خود ہی ہوتاہے، کیونکہ وہ خودمختارہوتا ہے۔ مالکان دلیر ہوتے ہیں کیونکہ وہ کاروبار کے نفع و نقصان کے لئے خطرہ لیتے ہیں۔

سیٹھ اور نوکر کا ایک دوسرے پر تکیہ ہوتا ہے اور دونوں  اپنے اپنے مقاصد کےحصول کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں، یہ ایک انتہائی اہم پہلو ہے کیونکہ ملازم کی ،کی گئی محنت اور کام اُس مقصد کے حصول کی عملی شکل میں تشکیل کرپاتا ہے جو اُس آجر کے کاروبار کی فلاح اور اُس کا پہیہ رواں دواں رکھنے میں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے۔

اگر کسی موقع پر فریقین یہ سمجھیں کے وہ ایک دوسرے کی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے تو یہ عہد یا تعلق ختم ہو جاتا ہے، یا تو سیٹھ ملازم کو نکال باہرکرتا ہے یا ملازم مالک کو کام سے جواب دے دیتا ہے۔ اس تعلق کو برقرار رکھنے کے لئے چند غیر مرئی یا مرئی حدود قائم کی جاتی ہیں تاکہ اس معاملے کو درست طریقے سے چلایا جا سکے، اس ضمن میں آجر اور کارکن دونوں پر یکساں ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مالک کو ملازم چننے کا اختیار ہوتا ہے اور ملازم کو کام کرنے کے لئے جائے ملازمت کا۔

مالک اور نوکر کا فرق لین دین اور آمدن کی منتقلی سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ مالک کی اجرت اس کے کاروبار کا منافع ہے، اور منافع کوئی شے یا خدمت کو زائد نرخ پر فروخت کر کے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے، اور اس قابل فروخت اور قابل منافع شے کے حصول کے لئے سرمایہ کاری کی جاتی ہے جسکا انتظام مالک ِ کاروبار مختلف ذرائع سے کرتا ہے۔

بعض اوقات وہ شے قابل فروخت نہیں ہوتی یا مالک میں اس کو فروخت کرنے کی اہلیت نہیں ہوتی تو وہ اس شے پر محنت کرتا ہے اور اُس کی خوبیوں میں اضافہ یا بہتری لاتا ہے تاکہ وہ شے قابل فروخت بنے، اور اگر اُس اکیلے میں اس کی قابلیت نہ ہو تووہ ہنرمند یا قابل لوگ تلاش کرتا ہے جو اس شے کی ہیئت تبدیل کر سکیں۔

 دنیا کا نظام کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر چلتا ہے، وہ قابل لوگ اجرت یا تنخواہ کے بدلے اس شے کی خامی یا کمی کو دور کرتے ہیں، اور یہ تنخواہ ان کی آمدن بنتی ہے۔ ملازم کی ذمہ داری اپنے کام یا ڈیوٹی تک محدود ہوتی ہے، جسکے لئے اس کو رقم دی جاتی ہے۔

سیٹھ اور نوکر کے درمیان کبھی بھی حقیقی تعلق قائم نہیں ہو سکتا، چاہے وہ آپس میں بھلے کتنے ہی اخلاق سے پیش آئیں۔ مالک اور ملازم کبھی بھی دوست نہیں ہو سکتے، اس تعلق کے لئے لفظ دشمن نہ سہی لیکن لفظ مخالف کا استعمال زیادہ مناسب ہو گا۔  آجر میں دنیا کی ہر خامی پائی جا سکتی ہے سوائے ایک خوبی کے، اور ملازم کے پاس ہر شے ہونے کے باوجود ایک شے کی کمی پائی جاتی ہے،  اور یہ کمی، خامی یا خوبی ہی ان دونوں کا بنیادی فرق ہے، جو کہ ان کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے وہ ہے سرمایہ یا دولت۔

%d bloggers like this: