کپتان کملا تھئ گیا ہئی

وزیر اعظم محترم کا فرمانِ عالیشان ہے کے پوری قوم میں سے صرف ایک فیصد لوگ ٹیکس فائلر ہیں، اور چونکہ ہماری قوم ٹیکس نہیں بھرتی اس لئے ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو پا رہا۔

 

مجھے یقین ہے کہ ہمارے کپتان کو ٹیکس کی ابجد کا بھی علم نہیں، اور میرا قیاس ہے کہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے اپنے گوشوارے میں کیا کیا انداجات کئے ہیں تو امید ہے کہ ان کا جواب ہو گا وکیل کو پتا ہوگا ان سے پوچھنا پڑے گا۔

 

میرے بھولے وزیر اعظم اگر آپ کو پتہ ہو یا نہ ہو مگر میں آپ کے گوش گزار کروں کے یہ نا ہنجار قوم اپنی جہالت کی وجہ سے فائلر کے مقابلے زیادہ ٹیکس بھر رہی ہے تو آپ کے کیا تاثرات ہوں گے؟

 

بھئی ہمارے ملک میں فائلر اور نان فائلر کے لئے الگ الگ نرخ نامے پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی شے خریدیں جو کہ سیل ٹیکس قانون کی رو سے گڈز ایٹ سٹینڈرڈ ریٹ کے زمرےمیں آتی ہے تو اس صورت میں فائلر تو صرف سترہ فیصد ٹیکس بھرے گا مگر نان فائلر ایڈیشنل ٹیکس آن نان فائلر کی رو سے مزید دو فیصد فالتو ٹیکس بھرے گا، اور یہ فالتو ٹیکس بھرنے کےباوجود وہ کسی شمار و قطار میں نہیں آ سکتا کیونکہ وہ فائلر نہیں ہے جبکہ فائلر کی موجیں ہیں وہ اس خرید کو کلیم کر سکتا ہے کیونکہ یہ اس کے پرچیز ڈیٹا میں نظر آئے گی جو کہ وہ ایف بی آر کے پورٹل پر دیکھ سکتا ہے۔

 

اب مسئلہ یہ ہے کے آپ کہیں گے کہ یہ تو بڑا اچھا نظام ہے لوگوں کو اس سے استفادہ کرنا چاہیئے، تو جناب لوگ دو فیصد کی بچت کی خاطر یہ دردسر یا خطرہ مول نہیں لیں گے، اس کے لئے چند چیزیں آپ کو ہمیشہ کے لئے بدلنا ہوں گی۔

 

کیا یاد کریں گے میں نامعقول آپ کو وہ گُر یا فارمولا بتائے دیتا ہوں جوکہ کوئی بھی معاشیات کے میدان کا پی ایچ ڈی برج یا ایف سی اے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ نہیں بتائے گا۔

 

پہلی چیز، آپ کو فائلر اور نان فائلر کے نرخ نامے میں تبدیلی کرنا ہو گی مثال کے طور پر درج بالا معاملے میں نان فائلر کو صرف دو فیصد کی مار پڑتی ہے۔ آپ اس خلیج کو مزید وسعت دیں آپ اس کو دو فیصد سے یکمشت بڑھا کر پندرہ فیصد کر دیں یا چلیں اسکو سیدھا ہی کر لیتے ہیں، آپ اس کو سترہ فیصد کر دیں۔ بھولے بادشاہ نہیں سمجھے،اسکا سادہ مطلب ہے کے نان فائلر اتنا ہی فالتو ایڈیشنل ٹیکس آن نان فائلر بھرے جتنا کے عام فائلر بھرتا ہے، یعنی 17%+17%=34% آسان الفاظ میں محصول دوگنا کر دیں۔ جی جی ایسا کرنے سے عوام کی چیخیں نکلیں گی اور بین الاقوامی طور پر آپ کا نام ہو گا، اسی بہانے لوگ مجبوراً فائلنگ کرنا شروع کر دیں گے تاکہ غیر ضروری ٹیکس سے بچا جا سکے۔

 

دوسرا، آپ سیل ٹیکس میں سے تھرڈ شیڈول بالکل ہی ختم کر دیں،  اسکے علاوہ ایٹ ریڈیوسڈ ریٹ اور آخر میں ایگزیمپٹڈ گڈز کا خانہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردیں، آپ کے ملک سے چوربازاری کافی حد تک ختم ہو جائے گی، بہت ہو گئی ٹیکس ہالیڈے اب یہ طبقہ بھی انسان بن جائے۔

 

تیسرا، سبزی فروٹ اور تمام قسم کی زرعی اجناس پر سیل ٹیکس لگایا جائے، اس کے لئے مناسب قانون سازی کر ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ اس ضمن میں انجمن ہائے امداد باہمی کے ماڈل پر نیم صنعتی اور تجارتی تنظیموں کو وجود میں لایا جاسکتا ہے۔

 

چوتھا، ملک میں ہر طرح کی ملازمتوں اور خدمات کو ریگولیٹ کیا جائے خواہ آپ نے ایک خاکروب کی خدمات ہی کیوں نہ حاصل کرنا ہوں، وہ آجر اور خاکروب اپنی اپنی ریٹرن فائل کرے، یہ ایک تفصیلی بحث ہے اور میں اس کے تمام تکنیکی اور عملی پہلوؤں پر تفصیلاً بات کر سکتا ہوں۔

 

پانچواں، یہ قوم ڈنڈے کے بغیر نہیں چلتی اس لئے ملک میں سے پانچ سو، ایک ہزار اور پانچ ہزار والا نوٹ ختم کر دیں، نیز ہر شہری کے پاس کم از کم ایک بنک کھاتہ ضرور ہو جس کے ذریعے وہ تمام لین دین کرے۔ اس امر سے ملک میں سے رشوت کی لعنت ختم کرنے میں بڑی حد تک مدد ملے گی۔

 

چھٹا،کسی قسم کی سواری خریدنے کی اجازت صرف فائلر کو ہی ہونا چاہیئے ، چاہے ایک سائیکل ہی کیوں نہ خریدنی  ہو،  نیز پرانے مالکان اگر سواری برقرار رکھنا چاہیں تو ان کو ٹیکس فائلر بننا ہو گا ورنہ سواری بحق سرکار ضبط کرلی جائے، اس میں کمرشل سواریاں بھی شامل کی جائیں۔ درج ذیل اصول کا اطلاق موبائل فون مالکان پر بھی ہونا چاہیئے۔ اس سختی کا دوہرا فائدہ یہ ہے کے عوام پڑھ لکھ جائے گی اور مجبوراً انکا سویا ہوا شعور بھی بیدار ہو جائے گا۔

 

مجھے امید ہے کہ کم از کم ان میں سےتین چار سفارشات پر عمل کرنے سے عوام ٹیکس ریٹرن فائلر ضرور بن جائے گی، باقی وہ ہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے، اس سلسلے میں مزید کسی چیز پر تفصیلاً تبادلہ خیال کرنا  مقصود ہو تو میں حاضر ہوں،  میری خدمات کروڑوں لاکھوں والے وکلاء اور کنسلٹنٹس سے بہت سستی ہوں گی اور کارگر بھی۔

%d bloggers like this: