پلاسٹک مصنوعات کے ماحولیاتی نقصانات

تحریر: شہروز کلیم

میں سمجھتا ہوں کے اگر انسان چاہے تو وہ اپنی فہم اور سوچ کے ذریعے تقریباً ہر مسئلے کا حل نکال سکتا ہے، لہذا اپنے ارد گرد کے ماحول کی بقا کے بارے میں سوچنےکی ذمہ داری بھی ہم سب پر یکساں عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم ماحولیاتی آلودگی اور اسکی وجوہات پر نظر کریں تو ہم پائیں گے چند عوامل ماحول کی تباہی کے بنیادی طور پر ذمہ دار ہیں۔ ایسی ہی مثال پلاسٹک اور اس سے تیار شدہ مصنوعات کی ہے۔

اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ، اشیائے ضرورت کی مانگ روز بروز بڑھ رہی ہے، نیز ان اشیاء کی تیاری کے لئے نت نئے مواد دریافت ہو رہے ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثریت ماحول دوست ہونے کے باوجود انتہائی مہنگے ہیں۔ جبکہ پلاسٹک اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کم خرچ اور انکی تیاری آسان ہونے کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ممالک میں بالعموم مقبول ہیں۔

لیکن اس سہولت کی قیمت ہمارے ماحول کو {اور بادی النظر میں عوام کو مالی اور جانی نقصان کی صورت میں} دگنی ادا کرنی پڑھتی ہے۔ یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہے کہ پلاسٹک سے تیار شدہ اشیاء جینیاتی طور پر خرد برد کا شکار نہیں ہو سکتیں، چاہے آپ ان اشیاء کو ایک صدی تک بھی زمین میں دفن کر کے رکھ لیں، تب بھی یہ اپنی ساخت تبدیل نہیں کرتی۔ پلاسٹک کی یہ خصوصیت املاک اور ماحول کے لئے تباہ کن ہے۔

پلاسٹک کے فضلے سے انواع و اقسام کے کیمیکل خارج ہوتے ہیں، جو کہ ہوا اور پانی کے ذریعے ہماری خوراک میں شامل ہو کر کینسر اور دیگر متعدی بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں۔یہ کیمیکل ہوا اور ماحول میں شامل ہو کر گلوبل وارمنگ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ نیز ترقی پزیر ممالک میں جہاں پر صفائی کا نظام، ناقص ہے، وہاں پر پلاسٹک کے بیگ سیوریج کی لائنوں اور نقاصی آب کی املاک میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔ جسکی وجہ سے پائپ لائنیں پھٹ جاتی ہیں، اور ان لائنوں کی مرمت پر عوام کا پیسہ بار بار لگتا رہتا ہے۔ اسکے علاوہ بھی کئی مسائل پلاسٹک کی اشیاء کے استعمال سے پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً پولیسٹر سے تیار شدہ ملبوسات پہننے کی وجہ سے جلدی امراض{الرجی وغیرہ} کا امکان رہتا ہے۔

پلاسٹک کے استعمال کو آہستگی سے ترک کرنا وقت کی ضرورت بنتا جا رہا ہے، لیکن جب تک صحیح متبادل کی تلاش ختم نہ ہو جائے اور متبادل کا عام استعمال شروع نہ ہو جائے، ہم اس وقت تک چند چیزوں کو اپنا کر ماحول اور دیگر عوامل کی بہتری کی کوشش کر سکتے ہیں۔ مثلاً اگر ہم روز مرہ کی اشیاء خورد و نوش کی خریداری کے وقت بازار جاتے ہوئے، اپنے ساتھ سامان رکھنے کے لئے لکڑی کی ٹوکری یا کپڑے کا تھیلا لے کر جا سکتے ہیں۔ اس طرح پہلے ہی قدم پر آپ ایک عدد شاپنگ بیگ کو استعمال کرنے سے رک چکے ہوں گے۔ اسی طرح اگر ہم اس چھوٹے سے کام کو ایک ہزار مرتبہ کرتے ہیں تو ہم یقیناً ایک ہزار شاپنگ بیگ کی بچت کر سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں ہم پلاسٹک کے برتن کے متبادل کے طور پر کانچ یا دھاتی برتن کے استعمال کو فروغ دے سکتے ہیں۔ دھاتی اشیاء کے استعمال کے انسانی صحت پر نقصان دہ اثرات، پلاسٹک کے مقابلے میں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مذید براں دھات کی اشیاء کیمیائی اور جینیاتی طور پر زنگ لگنے کے باعث خرد برد کا شکار ہوتی ہیں، جسکی وجہ سے یہ پلاسٹک کی نسبت بہتر ہیں۔

اس ضمن میں عوام میں اجتماعی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت وقت کو چاہئے کہ وہ پلاسٹک کے متبادل کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے آگہی مہم چلائے۔ اس سلسلہ میں حکومت ذرائع ابلاغ، جن میں بعید نمائی، جالبین، اور سماجی رابطوں کے مواقع جال کو وسیع پیمانے پر استعمال کر سکتی ہے۔ نیز بچوں میں شعور پیدا کرنے کے لئے مضامین کو نصاب تعلیم کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ کاروبای اور صنعتی طور پر پلاسٹک کی عدم پذیرائی کے لئے حکومت سخت قوانین اور اضافی محصول عائد کر سکتی ہے، دریں اثناء پلاسٹک کے متبادل کا استعمال شروع نہ ہو جائے۔ کاروباری اداروں کو ماحول دوست متبادل اختیار کرنے پر مراعات دی جایئں، تاکہ وہ اس تبدیلی کی محنت کو بار محسوس نہ کریں۔

جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں، کہ اگر ہم نیت کر لیں تو ہم اپنے مسائل کا حل خود کر سکتے ہیں، بس اس کے لئے ہمیں خود پر اعتماد اور بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کوشش کرنے سے انسان کے لئے نئی راہیں کھلتی ہیں۔ اسی لئے اگر ہم آج سے ہی عزم کر لیں کہ ہم سب نے مل کر اپنے ماحول میں ایک مثبت تبدیلی لانی ہے، تو آج ہی سے پہلا قدم اٹھاتے ہیں اور پلاسٹک کی تیار شدہ اشیائ کے کم سے کم استعمال کو فروغ دیتے ہیں۔

 

 

 

 

Courtesy of Samaa TV